دینی نصاب — Page 65
فی ذاتہ اس میں قباحت نہیں کہ اس موقعہ پر بچی کی سہیلیاں اکھٹی ہوں اور خوشی منائیں۔طبعی اظہار تک اس کو رکھا جائے تو اس میں حرج نہیں لیکن اگر اس کو رسم بنالیا جائے کہ باہر سے دولہا والے ضرور مہندی لے کر چلیں تو ظاہر ہے کہ اس میں ضرور تصنع پایا جاتا ہے بچی کی مہندی گھر پر ہی تیار ہونی چاہیئے۔اس پر ایک چھوٹی سی بارات بنانے کا رواج قباحتیں پیدا کرے گا۔" ( الفضل 26 جون 2002ء) شادی کے موقعہ پر پردے کا اہتمام اور ویڈیو گرافی : جو قباحتیں راہ پکڑ رہی ہیں ان میں سے ایک بے پردگی کا عام رجحان بھی ہے جو یقیناً احکام شریعت کی حدود پھلانگنے کے قریب ہو چکا ہے۔کیونکہ معزز مہمانوں میں بہت سی حیاء دار پردہ دار بیبیاں ہوتی ہیں۔بے دھڑک انٹ سنٹ فوٹوگرافروں یا غیر ذمہ دار اور غیر محرم مردوں کو بلا کر تصویریں کھنچوانا اور یہ پرواہ نہ کرنا کہ یہ معاملہ صرف خاندان کے قریبی حلقے تک محدود ہے اس بارہ میں واضح طور پر نصیحت ہونی چاہیے کہ آپ نے اگر اندرون خانہ کوئی ویڈیو وغیرہ بنانی ہے تو پہلے متنبہ کردیا جائے اور صرف محدود خاندانی دائرے میں ہی شوق پورے کئے جائیں۔“ (الفضل 26 جون 2002ء) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔کہ اللہ پر ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔پس ہمشہ اپنے مدنظریہ بات رکھنی چاہئے کہ کون ساعمل صالح ہے اور کون ساغیر صالح ہے۔بعض بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔مثلاً خوشیاں ہیں۔یہ دیکھنے والی بات ہے کہ خوشیاں منانے 65