دینی نصاب — Page 49
جو مال اس کے خاوند نے اُسے دیا ہو گا اس میں سے جس قدر اس کے پاس موجود ہو گا وہ اس کے خاوند کو دلا دیگا۔اور حکماً اس کو طلاق دلا دے گا۔خُلع میں مہر اور نان و نفقہ کی عورت حقدار نہیں۔بلکہ اگر خاوند اس سے کچھ مال لے کر خلع کرنا چاہے تو بھی اس کیلئے جائز ہے۔مگر جس قدر مال اس نے خود عورت کو دیا ہے اس سے زیادہ لینا اس کیلئے منع ہے۔مہر، کثرت ازدواج، طلاق اور خلع وغیرہ یہ سب خوبیاں ہمارے مذہب اسلام کے علاوہ اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتیں۔العان اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر یہ الزام لگائے کہ اس نے زنا کیا ہے۔اور جیسا کہ شریعت کا حکم ہے۔چار گواہ رؤیت موجود نہ ہوں۔مرد اپنی بات پر قائم ہو اور عورت انکار کرے تو اس صورت میں معاملہ قضاء ( عدالت ) میں قاضی (حاکم) کے سامنے پیش ہوگا۔قاضی ہر دو سے دریافت کرے گا۔اگر ہر دو اپنی اپنی بات پر مُصر ہوں تو قاضی ہر دو سے قسمیں کھلائے گا۔پہلے چار دفعہ مر قسم کھا کر کہے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس عورت نے زنا کیا ہے۔“ اور پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر میں اس معاملہ میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔اسی طرح عورت چار دفعہ قسمیں کھائے گی کہ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے زنا نہیں کیا یہ جھوٹ بولتا ہے۔اور پانچویں دفعہ کہے گی کہ اگر میں نے اس معاملہ میں جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔49