دینی نصاب

by Other Authors

Page 259 of 377

دینی نصاب — Page 259

ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اول نے ان خیالات کی تردید کرتے ہوئے ضرورت خلافت اور اطاعت خلیفہ پر زور دیا۔اور فرمایا:۔”میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے اور یہ دونوں خادم ہیں۔( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 262 ،فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ) خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرھم کے خیالات کی وجہ سے جماعت میں جو انتشار پیدا ہونے لگا تھا اس کے ازالہ کے لئے آپ نے ۳۱ /جنوری ۱۹۰۹ ء کو نمائندگان جماعت کو قادیان میں طلب کیا اور واضح الفاظ میں یہ فیصلہ فرمایا کہ صدر انجمن تو محض ایک تنظیمی ادارہ ہے۔جماعت کا امام اور مطاع تو صرف خلیفہ ہی ہے اس اجتماع میں مندرجہ بالا دونوں حضرات سے جن میں سرکشی پائی جاتی تھی آپ نے دوبارہ بیعت اطاعت لی لیکن بیعت کر لینے اور اقرار اطاعت کے باوجود ان حضرات کے دل صاف نہ ہوئے اور وہ تمر داور سرکشی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ کھلم کھلا مخالفت پر اُتر آئے اور آپ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے لگے۔191ء میں آپ گھوڑے سے گر گئے اور بہت چوٹیں آئیں۔علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا۔اس دوران ایک مرتبہ آپ نے وصیت تحریر فرمائی جوصرف دو الفاظ پر مشتمل تھی۔یعنی خلیفہ محمود۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ اپنے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب" کو خلیفہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔آپ نے اپنی علالت کے دوران حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو اپنی جگہ امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔یوں بھی آپ ان کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔اور برملا اس امر کا اظہار کرتے تھے کہ اپنے تقویٰ وطہارت ، اطاعت امام اور تعلق باللہ میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔جب آپ کی علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا تو منکرین خلافت نے گمنام ٹریکٹ لاہور سے شائع کئے جن میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ قادیان میں پیر پستی شروع ہوگئی ہے اور مرز امحمود احمد صاحب کو خلافت کی گدی پر بٹھانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔حضرت خلیفتہ امیج اول کے بارے 259