دینی نصاب

by Other Authors

Page 206 of 377

دینی نصاب — Page 206

فرماتا ہے:۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِيْنَ (سورۃ الحاقه : آیت ۴۵ تا ۴۸) اور اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ دیتے سو اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جواُسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔استدلال : -: اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ مدعی جھوٹا ہوتا اور جھوٹے الہام بنا کر یہ کہتا کہ یہ الہام خدا نے کیا ہے تو ہم اسے پکڑ لیتے اور جلد ہلاک کروا دیتے۔اُسے اتنی مہلت نہ دی جاتی کہ وہ لوگوں کو مسلسل گمراہ کرتا رہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوی نبوت کے بعد ۲۳ سال زندہ رہے۔حضور کی یہ زندگی اس بارے میں معیار ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنے لمبے عرصہ تک (جو ۲۳ سال پر ممتد ہے ) اس کا زندہ رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے دعوئی میں راستباز ہے۔اگر وہ جھوٹا ہوتا تو بہت جلد ہم گرفت کرتے اور ہلاک کر دیتے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نکلا کہ کوئی جھوٹا مدعی الہام و وحی اتنا عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا۔جتنا عرصہ سید ولد آدم اصدق الصادقین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اس آیت کریمہ میں لفظ تقول استعمال ہوا ہے جو جان بوجھ کر اور عمدا جھوٹ بولنے پر دلالت کرتا ہے۔ایک مجنون اور دیوانہ اس قانون کی زد میں نہیں آتا کیونکہ وہ بوجہ بیماری معذور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا سلسلہ ۴۳ برس تک جاری رہا۔پس آپ کا اتنی 206