دینی نصاب

by Other Authors

Page 207 of 377

دینی نصاب — Page 207

مدت تک ہلاک نہ ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ بلاشبہ راستباز اور منجانب اللہ تھے۔معیارسوم -: عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ ( سورة الجن رکوع ۲ - آیت ۲۸،۲۷) رسُول۔غیب کا جاننے والا وہی ہے ( یعنی خدائے تعالیٰ ) اور وہ اپنے غیب پر اپنے رسولوں کے سوا کسی کو کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔استدلال:- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ط (سورة الانعام رکوع ۷ آیت ۲۰) یعنی غیب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور غیب کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اس آیت میں الغیب سے مراد خالص غیب ہے جس کی پیش بینی کسی سائنسی اصول پر نہیں کی جاسکتی۔سورۃ التجن کی آیت میں یہ بتلایا ہے کہ خالص غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ صرف اپنے برگزیدہ انبیاء کوہی کثرت سے بتلاتا ہے۔اس اصول کے مطابق جس شخص کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اس کے رسول ہونے میں شک نہیں کیا جا سکتا۔ظَهَرَ عَلَى الْغَيْبِ کے یہی معنی ہیں کہ امور غیبیہ کثرت سے بتلائی جائیں اور وہ عظیم الشان خبروں پر مشتمل ہوں گو یا کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ گویا غیب پر غلبہ حاصل ہو گیا ہو۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی غیبی خبریں کچھ آفاق سے یعنی اطراف عالم سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ افراد سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ فرمایا :- 207