دینی نصاب — Page 203
صداقت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اے نبی ہو تو ان سے کہہ دے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ (سورۃ یونس رکوع ۲ آیت ۱۷) أَفَلَا تَعْقِلُونَ اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔استدلال:- اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ! تو اُن لوگوں سے کہہ دے کہ میں دعویٰ نبوت سے قبل تم میں ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں۔کیا تم نے مجھے پہلے کبھی جھوٹ بولتے دیکھا ہے؟ اگر میں نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں جو دعویٰ نبوت سے قبل کی ہے کسی ایک معاملہ میں بھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا تمہاری عقل اس بات کو تسلیم کرے گی کہ آج اچانک میں خدائے تعالیٰ کے بارے میں جو احکم الحاکمین ہے جھوٹ اور افتراء سے کام لینے لگا ہوں۔انسانی فطرت تو یہ ہے کہ ہر عادت خواہ نیکی کی ہو یا بدی کی آہستہ آہستہ پڑتی ہے۔یہ تو فطرت کے ہی خلاف ہے کہ چالیس سال تک تو انسان سچ بولتا رہا ہو اور پھر ایک دم ایسا تغیر پیدا ہو جائے کہ انسان خُدا کے بارے میں جھوٹ بولنے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دعویٰ نبوت پیش کرنے سے قبل لوگوں کو جمع کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر جرار چھپا ہوا ہے تو کیا تم اس بات کو مان لو گے! تو انہوں نے کہا۔203