دینی نصاب — Page 195
اور نیز اس صورت میں میں جھوٹا ہونگا اور تم بچے ثابت ہو گے اور یہ روپیہ ابھی سے جس ثالث کے پاس چاہور کھو اور اپنی تسلی کر لو مگر آتھم صاحب اس طرف نہ آئے۔اس پر آپ نے دوسرا اشتہار دیا کہ ہم دو ہزار روپیہ دیں گے اگر آتھم قسم کھالے کہ میں نے رجوع نہیں کیا مگر ادھر سے پھر بھی خاموشی رہی۔اس پر آپ نے ایک تیسرا اشتہار دیا کہ اگر آتھم یہ قسم کھالے تو میں تین ہزار روپیہ انعام دونگا مگر پھر بھی صدائے برنخو است۔بالآخر آپ نے چوتھا اشتہار دیا کہ میں چار ہزار روپیہ نقد انعام دیتا ہوں اگر آتھم یہ قسم کھالے کہ پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر غالب نہیں ہوا اور اُس نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا اور آپ نے لکھا کہ اگر تم نے قسم کھالی تو ایک سال میں تمہارا خاتمہ ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط نہیں لیکن اگر تم نے قسم نہ کھائی تو ہر عقلمند کے نزدیک ثابت ہو جائے گا کہ تم نے اپنی خاموشی سے حق پر پردہ ڈالنا چاہا ہے۔اس صورت میں گو میں ایک سال کی قید تو نہیں لگا تا لیکن یہ کہتا ہوں کہ جلد تمہارا خاتمہ ہے اور کوئی مصنوعی خدا تمہیں اس ہلاکت سے بچا نہ سکے گا۔پھر اس کے بعد آپ نے ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کو ایک اور اشتہار دے کر اس مضمون کو دہرایا اور لکھا کہ :۔مجھے اُسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آتھم اب بھی قسم کھانا چاہے اور انہیں الفاظ کے ساتھ جو میں پیش کرتا ہوں ( یعنی یہ کہ پندرہ ماہی میعاد میں اس کے دل پر پیشگوئی کا خوف غالب نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا رعب اس کے دل پر نہیں پڑا اور اس نے کوئی رجوع نہیں کیا) ایک مجمع میں میرے رُو برو تین مرتبہ قسم کھاوے اور ہم آمین کہیں تو میں اسی وقت چار ہزار روپیہ اس کو دیدونگا۔اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک وہ زندہ سالم رہا تو وہ اس کا روپیہ ہوگا اور پھر اس کے بعد یہ تمام قو میں مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو میں عذر نہیں کرونگا اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا دیں جو سخت تر سزا ہے تو میں انکار نہیں کرونگا اور خود میرے لئے اس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہوگی کہ 195