دینی نصاب — Page 178
کے مکالمہ ومخاطبہ سے حصہ لیا ہے اور ہر امت میں اس کے رسول آتے رہے ہیں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَافِيهَا نَذِيرٌ چنا نچہ آپ نے ہندوؤں کے کرشن ، بدھ مذہب کے گوتم بدھ ، اہل چین کے کنفیوشس اور پارسیوں کے زرتشت کی رسالت کا بھی اقرار کیا اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک انقلابی صورت پیدا کر دی۔پھر خدا کے الہام کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ الہام الفاظ نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک مفہوم دل میں ڈالا جاتا ہے گویا وہ نیک یا عمدہ خیالات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں وہی الہام ہیں۔آپ نے اس خیال کو غلط ثابت کیا اور قرآنی تعلیم اور عقلی دلائل اور مشاہدہ کی بناء پر ثابت کیا کہ گووحی خفی بھی کلام الہی کی ایک قسم ہے مگر زیادہ اعلیٰ اور زیادہ محفوظ کلام الفاظ کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اور قرآنی وحی بھی اسی قسم میں داخل تھی۔پھر خدا کی صفت قبولیت دعا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ بعض مسلمان یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ دُعا صرف ایک عبادت ہے ورنہ یہ نہیں ہوتا کہ کسی کی دُعا کی وجہ سے خدا اپنے فیصلہ یا ارادہ کو تبدیل کرے۔آپ نے اس خیال کو بدلائل غلط ثابت کیا اور قرآنی تعلیم اور واقعات اور مشاہدہ کی یقینی دلیل سے اس کا بطلان ظاہر کیا۔پھر خدا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ گویا وہ اپنے بندوں کو اپنے اختیارات دے دیتا ہے اور پھر اس کے یہ بندے بھی مستقل طور پر خدا کی طرح خدائی قدرتیں دکھانے لگتے ہیں۔اس خیال نے اسلام میں اکاذیب اور جھوٹے قصوں کا ایک طومار کھڑا کر دیا تھا۔آپ نے اس کو بدلائل غلط ثابت کیا۔پھر خدا سے اتر کر ملائکہ کے متعلق بہت سے اختلافات تھے۔مثلاً یہ کہ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کے کیا کیا کام ہیں اور وہ کس طرح اپنا کام کرتے ہیں اور ان کی ضرورت کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے بڑی مدلل بحثوں کے ساتھ ان نازک مسائل پر روشنی ڈالی اور اس مسئلہ میں 178