دینی نصاب — Page 162
طاعون کے ذریعہ سے ہوئی ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہوئی۔اس بیماری نے حضرت مرزا صاحب کے مخالفوں کو چن چن کر لیا ہے اور دوسری طرف حضرت مرزا صاحب اور آپ کے حواری اس کے اثر سے گویا بالکل محفوظ رہے۔پس یہی وہ سفید و سیاہ نشان ہیں جو دابتہ الارض نے لگائے ہیں۔جن ایام میں ملک میں طاعون کا زور تھا ان دنوں میں بعض اوقات ایک ایک دن میں کئی کئی سو آدمیوں کی بیعت کی درخواست حضرت مرزا صاحب کے پاس پہنچتی تھی اور لوگ بدحواسوں کی طرح آپ کی طرف دوڑے آتے تھے۔یہ ایک عجیب منظر ہے کہ ابتدائی چند سالوں میں احمدیوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہوئی لیکن طاعون یعنی دابتہ الارض کے خروج یعنی ۱۹۰۰ ء کے بعد سے دیکھتے ہی دیکھتے احمد یہ جماعت کا شمار ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں تک پہنچ گیا۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَالِكَ۔یہ کہنا کہ طاعون میں بعض احمدی بھی فوت ہو گئے ایک جہالت کا اعتراض ہے کیونکہ اول تو مقابلہ نظر ڈالنی چاہئیے کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں طاعون کی وارداتوں میں کیا نسبت رہی ہے؟ دوسرے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں مسلمان شہید نہ ہوتے تھے ؟ حالانکہ یہ غزوات کا فروں کیلئے ایک عذاب الہی تھے۔پس دیکھنا یہ چاہئیے کہ طاعون کے ذریعہ سے کس جماعت نے ترقی کی اور کس کو نقصان پہنچا ہے اور جو شاز و نادر وارداتیں احمدیوں میں ہوئی ہیں وہ شہادتیں ہیں جو خدا نے ہمارے بعض بھائیوں کو نصیب کی ہیں۔مگر پھر بھی جماعت کے سر کردہ لوگ اور خاص مقتر بین طاعون کے اثر سے بالکل محفوظ رہے لیکن مخالفوں میں سے کئی لوگ جو مخالفت میں اول نمبر پر تھے اس بیماری کا شکار ہو گئے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس بیماری نے احمد یہ جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دی اور دشمنوں کی تعداد کم ہوئی اور ہماری تعداد بڑھی۔غرض دابتہ الارض ظاہر ہو کر اپنا کام کر گیا۔اب خواہ خدا کے حضور رؤو اور چلاؤ اور دُعاؤں میں اپنی ناکیں گھسو کوئی اور دابتہ الارض تمہاری مرضی کے مطابق ظاہر نہیں ہوگا۔کیونکہ جو ظاہر ہونا 162