دینی نصاب

by Other Authors

Page 161 of 377

دینی نصاب — Page 161

شریف میں بھی اس کا ذکر موجود ہے جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لا يُوقِنُونَ (سوره نمل رکوع ۶ آیت ۸۳) یعنی ” جب ( مسیح موعود کے بھیجنے سے ) خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جولوگوں کو کاٹے گا اور انہیں زخمی کر دیگا۔یہ اسلئے ہوگا کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائینگے“۔پھر احادیث میں بھی کثرت کیسا تھ قرب قیامت کی علامت میں دابتہ الارض کا ذکر پایا جاتا ہے۔(دیکھو بخاری و مسلم ) اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک کیٹر اخروج کر یگا جو ملک میں چکر لگائے گا اور مومنوں اور کافروں میں امتیاز کرتا جاوے گا۔اب دیکھ لو کہ طاعون نے حضرت مرزا صاحب کے زمانے میں ظاہر ہو کر اس علامت کو کس وضاحت کے ساتھ پورا کر دیا ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ طاعون کی بیماری ایک کیڑے سے پیدا ہوتی ہے اور دابتہ الارض کے معنے بھی ایک زمینی کیڑے کے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں دوسری جگہ آتا ہے دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ( سورۃ سبا رکوع ۲) یعنی ” ایک زمینی کیڑا حضرت سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔اسجگہ سب مفسرین دابتہ کے معنے کیڑے کے کرتے ہیں پس کوئی وجہ نہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونے والے دابتہ الارض سے کیڑے کے سوا کوئی اور معنے لئے جاویں اور دوسری روایات میں جو اس دابتہ کی علامات وارد ہوئی ہیں وہ مجاز اور استعارہ کے طور پر ہیں اور حق یہی ہے کہ طاعون ہی دابتہ الارض ہے جس نے مسیح موعود کے وقت میں ظاہر ہو کر حق و باطل میں امتیاز کر دیا ہے۔واقعی اس نے منکروں کے ماتھے پر بھی ایک نشان لگایا اور مومنوں کے ماتھے پر بھی ایک نشان لگا یا اور اس طرح دونوں جماعتوں کو ممتاز کر دیا۔یہ ایک بین حقیقت ہے کہ جو ترقی احمد یہ جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں 161