دینی نصاب

by Other Authors

Page 158 of 377

دینی نصاب — Page 158

النِّصْفِ مِنْهُ۔( الدار قطنی جلد اوّل صفحہ ۱۸۸) یعنی ”ہمارے مہدی کیلئے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے کہ زمین اور آسمان پیدا ہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں چاند کو اس کی پہلی رات میں گرہن لگے گا ( یعنی تیرھویں تاریخ میں کیونکہ چاند کے گرہن کیلئے خدائی قانونِ قدرت میں تیرھویں اور چودھویں اور پندرھویں تو اریخ مقرر ہیں جیسا کہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ) اور سورج کو اس کے درمیانی دن میں گرہن لگے گا (یعنی اسی رمضان کے مہینہ میں اٹھائیس تاریخ کو کیونکہ سورج گرہن کیلئے قانونِ قدرت میں ستائیس ، اٹھائیں اور انتیس تواریخ مقرر ہیں ) اب تمام دنیا جانتی ہے کہ اسلاھ مطابق ۱۸۹۴ء میں یہ نشانی نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔یعنی اسی ادھ کے رمضان میں چاند کو اس کی راتوں میں سے پہلی رات میں یعنی تیرھویں تاریخ کو گرہن لگا اور اسی مہینہ میں سورج کو اس کے دنوں میں سے درمیانی دن یعنی اٹھائیس تاریخ کو گرہن لگا اور یہ نشان دو مرتبہ ظاہر ہوا۔اوّل اس نصف کرہ زمین میں اور پھر امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہی تاریخوں میں ہوا جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔اور یہ نشانی صرف حدیث ہی نے نہیں بتائی بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا که فرمایا :- وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ - (سورۃ القیامہ رکوع ۱) یعنی ”چاند کو گرہن لگے گا اور اس گرہن میں سورج بھی چاند کے ساتھ شامل ہوگا۔یعنی اُسے بھی اسی مہینہ میں گرہن لگے گا۔اب دیکھو کس صفائی کے ساتھ یہ علامت پوری ہو کر ہمیں بتا رہی ہے کہ یہی وہ وقت ہے 158