دینی نصاب

by Other Authors

Page 132 of 377

دینی نصاب — Page 132

ایسے اعمال ہرگز مذہب کا حصہ نہیں سمجھے جاسکتے بلکہ انہیں مذہب کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں مثلاً خدا کے حضور سجدہ کرنا نیک اعمال میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص بازار میں چلتا ہوا ٹھوکر کھا کر منہ کے بل جاگرے تو گو ظاہری صورت اس کی سجدہ کرنے والے کی سی ہوگی۔لیکن مذہب کی اصطلاح میں وہ خدا کے حضور سجدہ کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ اس سجدہ کے ساتھ دل کی تحریک اور نیت شامل نہیں بلکہ یہ صورت صرف کسی بیرونی اثر کے ماتحت پیدا ہوگئی ہے۔پس ظاہری حرکات وہی مذہب کے اندر شامل سمجھی جاسکتی ہیں جو دل کی نیت کے ساتھ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اثْمَا الْأَعْمَالُ بِالرِّيَّاتِ ( بخاری ) یعنی بچے اعمال وہی ہیں جن کے ساتھ دل کی نیت شامل ہو“۔ورنہ اگر نیت نہیں تو عمل بھی کوئی عمل نہیں۔پس ثابت ہوا کہ یہ قطعاً ناممکن ہے کہ جبر کے ذریعہ کسی کو اسلام کے اندر یا کسی اور مذہب کے اندر داخل کیا جائے۔کیونکہ مذہب تو کہتے ہی اس طرز اور رویہ کو جس کے ساتھ اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہو۔اور یہ بات یکجا جبر کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوسکتی۔پس معلوم ہوا کہ جبر کے ذریعہ کسی شخص کو کسی مذہب کے اندر داخل کر لینا محالات عقلی میں سے ہے اسی واسطے خداوند کریم نے فرمایا ہے کہ إِثْمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ - (سورة المائده رکوع ۲) یعنی ” ہمارے رسول کا تو صرف یہ کام ہے کہ لوگوں تک ہمارا پیغام کھول کر پہنچا دیوے۔“ آگے ماننا نہ مانا لوگوں کا کام ہے اس سے رسول کو غرض نہیں۔رسول کا کام صرف احسن طریقہ پر اپنی رسالت کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ایک اور دلیل سے بھی جبر کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے وہ یہ کہ اسلام نے نفاق کو سخت قابلِ نفرت فعل قرار دیا ہے اور منافق کی سزا کو کافر سے بھی زیادہ سخت رکھا ہے جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے اِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (سورة النساء ركوع ٢١) یعنی " منافق لوگ دوزخ کے سخت ترین حصہ میں ڈالے جائیں گے مگر ظاہر ہے کہ جبر کے نتیجہ 132