دینی نصاب — Page 127
ہو سکتے ہیں؟ پھر حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر ایک خلیفہ برحق موجود ہو اور اس وقت کوئی دوسرا شخص خلافت کا دعویٰ کرے تو اُسے قتل کر دو۔یعنی جنگ کی صورت ہو تو مقابلہ کر کے اُسے ماردو ور نہ اُسے مُردوں کی طرح سمجھ کر اس سے بالکل قطع تعلق کر لو۔اب باوجود اس تعلیم کے دوخلیفوں کا وجود ایک وقت میں کس طرح مان لیا جاوے؟ اسلامی تعلیم کی رُو سے ایک وقت میں ایک ہی امام ہوتا ہے اور باقی اس کے تابع ہوتے ہیں۔پس یہ بھی دلیل ہے اس بات کی کہ مسیح اور مہدی دو الگ الگ وجود نہیں ہونگے۔بلکہ یہ دو نام ایک شخص کے ہیں جو آخری ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلیفہ ہوگا۔یہاں تک تو ہم نے استدلالات سے کام لیا ہے لیکن اب ہم ایک ایسی حدیث پیش کرتے ہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔لَا مَهْدِى إِلَّا عِیسٰی (ابن ماجہ باب شدة الزمان ) یعنی ” حضرت عیسی کے سوا اور کوئی مہدی موعود نہیں ہے“۔دیکھو کیسے صاف اور روشن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ مسیح اور مہدی الگ الگ نہیں ہیں بلکہ مسیح موعود کے سوا اور کوئی مہدی موعود ہے ہی نہیں۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتا ہے وہ تو ان الفاظ کے سامنے سر جھکا دے گالیکن جس کے دل میں کبھی ہے وہ ہزاروں حجتیں نکالے گا۔مگر ہمیں اس سے کام نہیں۔ہمارے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جو روحانی مکتب میں یہ سبق سیکھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنا سر رکھ دینا عین سعادت ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حدیث بھی ہے جو صاف الفاظ میں مسیح موعود ہی کو امام مہدی بتاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔يُوشِكُ مَنْ عَاشَ فِيْكُمْ اَنْ يَّلقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدُلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيْب وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ۔۔۔الخ۔127 (مسنداحمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۱۱)