دینی نصاب — Page 113
عیسی علیہ السلام اور مسیح موعود کا خلیہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی بن مریم کا یہ حلیہ بیان کیا ہے کہ وہ سرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے اس بات کا ثبوت کہ یہاں عیسی سے گذشتہ عیسیٰ مراد ہیں خود اسی حدیث میں موجود ہے اور وہ یہ کہ ان کو ایک گذشتہ نبی یعنی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ناظرین حضرت مسیح ناصری کے اس حلیہ کو اچھی طرح یاد رکھیں۔پھر ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔بَيْمَا أَنَا نَائِمُ أَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ أَدَمُ سَبْطُ الشَّعْرِ يَنْظُفُ اَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُه مَاءً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ۔۔۔الخ) ( بخاری کتاب الفتن باب ذکر الہ جال) یعنی ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔اس وقت اچانک ایک شخص میرے سامنے آیا جو گندم گوں رنگ کا تھا اور اس کے بال سید ھے اور لمبے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مسیح کا یہ حلیہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ رنگ کا گندم گوں ہوگا اور اس کے بال سیدھے اور لمبے ہونگے۔اس بات کا ثبوت کہ اس حدیث میں ابن مریم سے آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح مراد ہے؛ یہ ہے کہ اسی حدیث میں آگے چل کر دجال کا بھی ذکر ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اسی موقعہ پر دجال کو بھی دیکھا۔لہذا ثابت ہوا کہ یہ مسیح وہ ہے جو دجال کے مقابلہ میں ظاہر ہوگا۔اب معاملہ بالکل صاف ہے۔حضرت مسیح ناصری جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے اُن کا حلیہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ سُرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے لیکن آنے والا مسیح جو د قبال کے مقابل پر ظاہر ہو گا اس کا حلیہ 113