دینی نصاب — Page 92
وفات کے ذریعہ یا نیند کی حالت میں۔جب نیند کی حالت میں قبض روح مراد ہو تو اس کے لئے قرینہ موجود ہوتا ہے ورنہ توئی کے معنی ہمیشہ موت کے ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں جہاں تو قی کا لفظ ذی روح یعنی جاندار چیز کے لئے استعمال ہوا ہو اور خُدا اس فعل کا فاعل ہو تو اس کے معنی قبض روح کے سوا کچھ اور بھی کئے جاسکتے ہوں۔دوسری دلیل : إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ ( سورة آل عمران : ۵۶) الْقِيمَةِ ترجمہ : ( اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا۔اے عیسی ! میں تجھے ( طبعی طور پر ) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور میں عزت بخشوں گا۔اور کافروں (کے الزامات ) سے تجھے پاک کروں گا اور جو تیرے پیرو ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔استدلال : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام سے چار وعدے کئے ہیں :۔میں تجھے وفات دوں گا یعنی یہودی تجھے مار نہیں سکیں گے۔۲۔میں تجھے عزت دوں گا۔یہودی تجھے صلیب پر مار کر ذلیل نہیں کر سکتے۔بائبل میں لکھا ہے۔جو کاٹھ پر ( یعنی صلیب پر ) مارا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔خدا فرماتا ہے کہ یہودی اس منصوبہ میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے اور تجھے صلیب پر موت نہیں آئے گی۔جو تیری بے عزتی کا موجب ہو۔92