دینی نصاب

by Other Authors

Page 91 of 377

دینی نصاب — Page 91

کا مجھے حق نہ تھا اور اگر میں نے ایسا کہا تھا تو تجھے ضرور اس کا علم ہوگا۔جو کچھ میرے جی میں ہے تو جانتا ہے اور جو کچھ تیرے جی میں ہے میں نہیں جانتا۔تو یقینا (سب) غیب کی باتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔میں نے اُن سے صرف وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے اور جب تک میں ان میں ( موجود ) رہا میں ان کا نگران رہا۔مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔استدلال :- اس آیت میں قَالَ اللہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کے معنی ہیں اللہ نے کہا۔یہ مکالمہ قیامت کے دن ہو گا مگر ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا جو مستقبل میں کسی امر کے حتماً وقوع پذیر ہونے پر بھی دلالت کرتا ہے یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسی سے دریافت کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ تو وہ جواب دیں گے کہ میں جب تک قوم میں موجود رہاوہ نہیں بگڑی تھی میں ان کا نگران تھا۔لیکن فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی جب تُو نے مجھے وفات دے دی تو تو اُن کا نگران تھا مجھے ان کے بگڑنے کا کوئی علم نہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ وفات پا کر اپنی قوم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے۔اگر یہ مانا جائے کہ قیامت سے قبل وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو پھر قیامت کے دن قوم کے بگڑنے سے ان کا لاعلمی کا اظہار جھوٹ ٹھہرتا ہے۔جو کسی طرح ممکن نہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ قوم کے بگڑنے سے قبل وفات پاگئے اور ان کے لئے دوبارہ دنیا میں آنا کسی طرح ممکن نہیں۔یا درکھنا چاہیے کہ لفظ توفی فعل ہے۔جب اس کا فاعل خدا ہوا اور مفعول کوئی ذی روح ہو تو اس کے معنی سوائے قبض روح کے اور کچھ نہیں ہوتے اور قبض روح صرف دوطرح ہوتا ہے 91