دینی نصاب

by Other Authors

Page 38 of 377

دینی نصاب — Page 38

دوسرا باب بچے کی پیدائش پر ضروری مسائل جب کسی مسلمان کے ہاں لڑکا یالڑ کی پیدا ہوتو اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے دائیں کان میں اذان کہی جائے اور بائیں کان میں اقامت۔کوئی صالح اور متبرک آدمی اُسے گھٹی دے۔بچے کا اسلامی نام رکھا جائے۔بہتر ہے کسی صالح آدمی سے نام رکھا یا جائے۔پھر ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے۔بچے کا سرمنڈوایا جائے۔سرمنڈوانے کے بعد بالوں کے برابر چاندی تول کر دینا مستحب ہے اور بچے کے سر پر زعفران گھول کر لگانا بھی مستحب ہے۔قربانی لڑکی کی طرف سے ایک بکرا یا دنبہ وغیرہ اور لڑکے کی طرف سے دو بکرے یا دُنبے وغیرہ زیادہ پسندیدہ ہے۔ایک ایک قربانی بھی جائز ہے۔ساتویں روز ختنہ کرنا بھی پسندیدہ ہے۔اگر نہ ہو سکے تو بالغ ہونے سے پہلے پہلے ضرروختنہ کرالینا چاہئیے۔یہ ابراہیمی سنت ہے۔عقیقہ کا اصل دن تو پیدائش کے بعد ساتواں دن ہے۔چودھواں اکیسواں دن بھی جائز ہے۔بعض نے یہاں تک بھی لکھا ہے کہ لڑکے کے بالغ ہونے تک ماں باپ عقیقہ کر سکتے ہیں اور بالغ ہونے کے بعد لڑ کا خود بھی کر سکتا ہے۔بچے کے مربیوں کو بچہ کے بالغ ہونے تک درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہئیے : (۱) رضاع ( دودھ پلانا)۔یعنی بچے کو خواہ اس کی ماں کا دودھ پلائیں خواہ کسی دوسری عورت کا ، دوسال کی عمر تک دودھ پلوا سکتے ہیں۔یہی وہ دودھ ہے جس سے رشتوں کی حرمت قائم ہوتی ہے۔دو سال کے بعد اگر بچہ کسی عورت کا دودھ پئے تو وہ عورت اس کی ماں نہیں بن سکتی۔(۲) استیذان (اجازت حاصل کرنا ) :- جب بچہ چلنے پھرنے لگے اور باتیں سیکھ جائے 38