دینی نصاب — Page 36
شرح چالیسواں حصہ ہے۔یعنی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ پر زکوۃ کی مقدار ایک تولہ تین ماشہ چھورتی (۱۰ گرام ۳۱ ملی گرام) بنتی ہے۔یہی حکم چاندی کے زیور کا ہے۔۱۔سونے کا نصاب چاندی کے نصاب کے تابع ہے اور زکوۃ کی شرح اس صورت میں بھی چالیسواں حصہ ہے سونے چاندی کے زیوارت پروزن کے لحاظ سے زکوٰۃ ہوگی نہ کہ ان کی بنوائی وغیرہ کے لحاظ سے۔سونے اور چاندی کے وہ زیور جو عام طور پر استعمال میں رہتے ہیں اور غرباء کو بھی عاریتاً دیئے جاتے ہوں ان پر زکوۃ واجب نہیں۔سونے کے ایسے زیوارت کا اندازہ آٹھ تولے تک ہے اور اسی بناء پر بعض فقہاء نے سونے کا نصاب ۸ تولے ۴ ماشه ( ۹۷ گرام ۲۰۰ ملی گرام) مقرر کیا ہے لیکن یہ نصاب نہیں بلکہ استعمال کے زیور کے لحاظ سے چھوٹ ہے۔۱۳۔سگے خواہ وہ کسی دھات کے ہوں یا کاغذ کے ہوں ان کا نصاب چاندی کے مطابق ہوگا۔یعنی جس شخص کے پاس اس قدر روپے یا پونڈ ، ڈالر یا کرنسی نوٹ ہوں جن کی قیمت ۵۲ تولہ ۶ ماشہ چاندی کے برابر ہو تو ایسا شخص صاحب نصاب سمجھا جائے گا۔اور اسے چالیسواں حصہ زکوۃ دینی ہوگی۔یعنی ڈھائی فی صد۔۱۴۔اونٹوں کا نصاب ۵ راس ( یا عدد) ہے۔اگر ۵ سے کم اونٹ ہوں تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔گائیوں اور بھینسوں کا نصاب تیں راس ہے۔بکری، بھیڑ اور دنبہ کا چالیس راس ہے۔۱۵۔جس زمین کا گورنمنٹ لگان لیتی ہو اس کی پیداوار پر زکوۃ واجب نہیں۔۱۶ - اگر کاشت کار کے پاس زمین اجارہ کے طور پر ہو تو زکوۃ کی ادائیگی اس کے ذمہ ہوگی۔اگر اس نے زمین بٹائی پر لی ہو تو زکوۃ مشترکہ طور پر واجب ہوگی اور زکوۃ کی ادائیگی کے بعد باقی غلہ مالک اور کاشت کار کے درمیان تقسیم ہو گا۔36