دینی نصاب — Page 344
بھاگ جاتے۔پس حو صلے اور پیار سے بات کرنا حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شیوہ رہا اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تلقین کرتے رہے۔ایک دفعہ ایک یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے آیا اور سختی سے پیش آیا جس پر حضرت عمرؓ نے اس کو ڈانٹا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔عمر تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے اس کو نرمی سے سمجھاؤ۔“ ( صحیح بخاری اُردو جلد اول پارہ نمبر ۹ کتاب الوکالت حدیث نمبر ۲۱۲۸) آج اسی تعلیم کو حضرت مسیح موعود نے زندہ کیا اور فرمایا :- اسی طرح فرمایا :- نیست گالیاں سُن کے دُعا دو پاکے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو نہ ہونا شست اس میں زینہار دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے اک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار اخلاق ستیه قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کے مضمون کو سورۃ الحجرات میں بیان فرمایا ہے:۔أيُحِبُّ أَحَدُ كُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ (سورۃ الحجرات آیت: ۱۳) 344