دینی نصاب — Page 345
کیا تم میں سے کوئی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا (اگر تمہاری طرف یہ بات منسوب کی جائے تو ) تم اس کو نا پسند کرو گے۔پس اللہ تعالیٰ نے پیٹھ پیچھے بات کرنے کو اس قدر ناپسند فرمایا ہے کہ گویا اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر معراج کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ یہ بھی بیان فرمایا کہ میں معراج کے دوران ایک ایسی قوم کے پاس سے گذرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔میں نے پوچھا اے جبریل! یہ کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھایا کرتے تھے اور ان کی عزت آبرو سے کھیلتے تھے۔یعنی ان کی غیبت کرتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔“ بغض اور حسد: (ابوداؤد کتاب الادب باب في الغيبة ) قومی ترقی کے لئے باہمی محبت ضروری ہے۔اس کا فقدان قومی زوال کا باعث ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ حضور نے فرمایا۔باہم بغض اور حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔“ (ابوداؤ د کتاب الادب باب فی الحسد ) اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ اِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطب (ابوداؤ د کتاب الادب باب فی الحسد ) حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ ایندھن کو۔پس ہمیں پیارے آقا کا یہ فقرہ مد نظر رکھنا چاہئیے کو اللہ کے بندے بھائی بھائی بن 345