دینی نصاب — Page 331
چنده وقف جدید : سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۷ ء میں اندرون ملک عوام کو عیسائی یلغار سے بچانے اور دیہاتی جماعتوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اس تحریک کا اعلان فرمایا۔۱۹۸۵ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع جو اس مبارک تحریک کے پہلے مبر مقرر ہوئے تھے نے اس تحریک کو ساری دُنیا کیلئے وسیع کر دیا۔اس تحریک کا ایک اہم شعبہ دفتر اطفال ہے جس میں جماعت احمدیہ کے بچے اور بچیاں چندہ ادا کرتے ہیں جو کم از کم ۱۲ روپے سالانہ ہے اور یکصد روپیہ خصوصی چندہ ادا کرنے والا بچہ تھا مجاہد کہلاتا ہے جبکہ ۱۵ سال سے بڑے افراد کم سے کم شرح ۲۴ روپے ادا کرتے ہیں۔اور ۱۰۰۰ اور ۱۵۰۰ادا کرنے والے مجاہد صف اوّل اور مجاہد صف دوم کہلاتے ہیں۔زكوة: زکوۃ بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے جو ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو ز کوۃ کے نصاب کے تحت آتا ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قراردیا ہے۔چندہ عام الگ ہے اور ز کو الگ۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں:۔تیسری چیز چندہ ہے جو دین کے جہاد کے لئے ہوتا ہے۔یہ جہاد خواہ تلوار سے ہو یا قلم اور کتب سے۔یہ بھی ضروری ہے کیونکہ زکوۃ اور صدقہ تو غرباء کو دیا جاتا ہے اس سے کتابیں نہیں چھاپی جاسکتیں اور نہ مبلغوں کو دیا جاسکتا ہے۔“ ملائکۃ اللہ صفحہ ۶۲ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۰ء) زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر نقدی اور زیور ہے اور اس کا 331