دینی نصاب — Page 290
کر کے انہیں پیغام حق پہنچایا جائے۔(۴) منتخب شدہ افراد کو صرف ایک دفعہ تبلیغ کافی نہیں۔سچائی بار بار ان کے گوش گزار کی جائے (۵) کوئی شخص بات سنے کیلئے تیار نہ ہو تو اس سے نصیحت کی بات کہہ کر اعراض کیا جائے۔تیسری بات یہ بتلائی کہ دعوت موعظہ حسنہ کے رنگ میں شروع کی جائے۔مخاطب کو بتلایا جائے کہ تبلیغ میں ان کا ذاتی مفاد کوئی نہیں بلکہ اس کی ہمدردی اور بھلائی مقصود ہے۔کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں نے خدا کی طرف بلانے والوں کا انکار کیا ہے وہ بالآخر ہلاک ہو گئے ہیں۔اس لئے آج جو پکارنے والا پکار رہا ہے عقلمندی اسی میں ہے کہ اس کے پیغام پر کان دھرا جائے۔پھر آیت وَاصْبِرُ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللہ کی وضاحت کرتے فرمایا کہ دعوت الی اللہ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب مخاطب بھڑک اُٹھتے اور درپئے آزار ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت میں فرمایا کہ بہترین طرز عمل یہ ہے کہ زیادتی کے وقت صبر کیا جائے۔قول کے لحاظ سے صبر یہ ہے کہ اذیتوں کو دیکھ کر دعوت الی اللہ کا کام ترک نہیں کرنا اور نہ کسی سے خوف کھانا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ۱۳ سال تک شدید ایذاؤں کے باوجود دعوۃ الی اللہ میں مصروف رہے۔عمل کے لحاظ سے صبر یہ ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا۔ان حالات میں غصہ کی بجائے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئیے اور محبت و پیار سے سمجھاتے چلے جانا چاہئیے۔احسن عمل یہ ہے کہ بدی کا جواب اچھائی اور حسن سلوک سے دو۔بدی خود بخود کم ہوجائے گی۔پھر صبر سے کام کرتے چلے جاؤ تو تمہاری استقامت اثر پیدا کرے گی۔محبت کا سلوک جاری رہے اور قول و فعل میں حسن برقرار رہے تو اس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ جو پہلے جانی دشمن ہوتے ہیں وہ دلی دوست بن جاتے ہیں۔وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللہ میں یہ بھی فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کی مدد کے بغیر دعوت الی اللہ کا 290