دینی نصاب

by Other Authors

Page 189 of 377

دینی نصاب — Page 189

طرف سے حضرت مرزا صاحب مناظر قرار پائے اور ہمقام امرتسر یہ مباحثہ شروع ہوا۔عیسائیوں کی طرف سے مسٹر مارٹن کلارک صدر جلسہ تھے اور مسلمانوں کی طرف سے شیخ غلام قادر صاحب فصیح صدر تھے۔پندرہ دن تک یہ مباحثہ جاری رہا۔اس مباحثہ میں غلبہ کس کو رہا ؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔روئیداد جلسہ مفصل طور پر ” جنگ مقدس“ کے نام سے چھپ چکی ہے اس کے مطالعہ سے کسی عظمند پر مخفی نہیں رہ سکتا کہ غالب کون رہا اور مغلوب کون؟ مگر دو باتیں اس مباحثہ میں خاص طور پر نوٹ کے قابل ہیں جو شخص انہیں مد نظر رکھ کر اس کتاب کا مطالعہ کریگا ایک عجیب حظ اٹھائے گا۔اول یہ کہ ہر مذہب کے دعوئی اور دلیل کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے ایک نہایت محکم اصول پیش کیا ہے جو سارے جھگڑے کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔مگر مسیحی صاحبان نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور نہ دراصل وہ توجہ کر سکتے تھے۔کیونکہ ایسا کرنے سے وہ بالکل بے دست و پارہ جاتے۔اس اصول کے متعلق ہم مفصل آگے چل کرلکھیں گے۔دوسری بات یہ ہے جسے ایک ذہین شخص محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت مرزا صاحب کی زبر دست جرح سے تنگ آکر کئی جگہ آتھم صاحب نے سوائے اس کے اپنے لئے کوئی مخلصی کی راہ نہیں دیکھی کہ معروف مسیحی عقیدہ کو چھوڑ کر اپنے کسی ذاتی خیال کی آڑ میں پناہ لے لیں چنانچہ کئی جگہ اُن کے دعوے اور دلیلیں معروف مسیحی عقیدوں کے خلاف نظر آتی ہیں اور کئی جگہ انہوں نے اپنا پہلو بھی بدلا ہے۔پس یہ بھی حضرت مرزا صاحب کے غلبہ کی ایک بین دلیل ہے۔ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ خصم خواہ کیسا بھی لاجواب ہو جاوے چچپ نہیں ہوا کرتا۔غرض یہ مباحثہ اسلام کیلئے ایک نہایت درجہ کامیاب مباحثہ ثابت ہوا اور مسیحیوں کو شکست فاش نصیب ہوئی۔( جنگ مقدس) اس کے بعد پادری صحیح صحیح نے حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر میدان میں آنا چاہا مگر 189