دینی نصاب

by Other Authors

Page 171 of 377

دینی نصاب — Page 171

کر دکھائے ( اس آیت کو مفسرین نے مسیح موعود کے زمانہ پر منطبق کیا ہے ) اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ وعدہ مسیح موعود کے زمانہ میں پورا ہوگا“۔مسیح موعود کی علامتوں میں سے یہ دسویں علامت ہے اور در حقیقت یہی تمام علامتوں کی جان ہے کیونکہ اس میں مسیح موعود کا کام بتایا گیا ہے اور ایک روحانی مصلح کی سب سے بڑی شناخت اس کے کام کے ذریعہ سے ہی ہوا کرتی ہے اسی لئے ہم نے اس علامت کی بحث کو ایک الگ اور مستقبل باب میں بیان کرنا مناسب سمجھا ہے۔درحقیقت اگر یہ ثابت ہوجائے کہ حضرت مرز اصاحب نے وہ کام کر دکھایا ہے اور سنت رسل کے مطابق اس کی تخم ریزی کر دی ہے جو سیح موعود کے ہاتھ پر سر انجام پانا مقدر تھا تو پھر کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہے گی اور اس کے بعد کسی اور فرضی مسیح و مہدی کا انتظار بے سود ہوگا۔کیونکہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جاوے کہ حضرت مرزا صاحب موعود مسیح و مہدی نہیں ہیں تو پھر بھی اگر آپ کے ذریعہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا مقررہ کام واقعی پورا ہو گیا ہے تو اس اصلی ( گو ہمارے نزدیک فرضی مسیح و مہدی کا مبعوث کیا جانا ایک محض لغو فعل ہوگا جو خدا جیسی حکیم ذات سے ہرگز متوقع نہیں ہو سکتا۔مگر اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے بعض تمہیدی باتوں کا بیان کر دینا ضروری ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کسر صلیب سے کیا مراد ہے؟ سو ہر عقلمند سوچ سکتا ہے کہ کسر صلیب سے یہ تو ہر گز مراد نہیں ہو سکتی کہ مسیح موعود ظاہری صلیب کی لکڑی کو تو ڑتا پھرے گا اور گویا اس کی بعثت ہی اس غرض سے ہوگی کہ ساری عمر صلیب کی لکڑی کو تو ڑتا پھرے کیونکہ اول تو یہ بات ایک مرسل یزدانی کی شان سے بعید ہے کہ وہ محض ایک لکڑی کو توڑنے کیلئے مبعوث کیا جائے دوسرے ایسا فعل کوئی حقیقی فائدہ بھی نہیں دے سکتا۔کیا صلیب کی لکڑی کے توڑے جانے سے مسیح پرستی مٹ سکتی ہے؟ یا اس سے ساری دنیا کی لکڑی ختم ہو جائے گی اور مسیحی لوگ آئندہ صلیب نہیں بنا سکیں گے؟ خوب یاد رکھو کہ جب تک مسیحیت کے باطل خیالات کا زور 171