دینی نصاب

by Other Authors

Page 144 of 377

دینی نصاب — Page 144

طرح اس زمانہ میں دنیوی علوم کی بھی جو کثرت ہے اس کی مثال کسی پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔اور یا درکھنا چاہئیے کہ ضرور تھا کہ مسیح موعود کی بعثت کیلئے کوئی ایسا ہی زمانہ منتخب کیا جاتا کیونکہ مسیح موعود کا زمانہ اشاعت دین کا زمانہ ہے۔پس اسکے زمانہ میں اشاعت کے سامانوں کا مہتا ہونا از بس ضروری تھا تاوہ اور اسکی جماعت آسانی کے ساتھ فرض تبلیغ ادا کر سکے۔دوسری علامت دوسری علامت مسیح موعود کے زمانہ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بڑا زور ہوگا۔یعنی نصاری بڑے زوروں پر ہونگے۔چنانچہ علاوہ قرآنی اشارات کے حدیث شریف میں مسیح موعود کے کام کے متعلق صراحۂ آتا ہے کہ یکسر الصلیب( دیکھو بخاری و دیگر کتب حدیث) یعنی " مسیح موعود صلیب کو توڑ دے گا“۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں آئے گا کہ اُس وقت صلیبی مذہب بڑے زور میں ہوگا۔تبھی تو وہ اس کے مقابلہ میں اٹھ کر اس کو توڑے گا۔ورنہ ویسے عیسائیت کا وجود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا مگر آپ کے متعلق کسر صلیب کا لفظ نہیں آیا۔پس ثابت ہوا کہ کسر صلیب سے مراد یہ ہے کہ پہلے صلیبی مذہب زوروں پر ہو اور پھر کوئی شخص اس کا زور توڑ کر اُسے اسلام کے مقابل پر مغلوب کر دے۔اب دیکھ لو کہ اس زمانہ میں صلیبی مذہب کا کتنا زور ہے ،حتی کہ چاروں طرف اسی مذہب کے پیرو نظر آتے ہیں اور انہوں نے ساری دنیا میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا عظیم الشان جال پھیلا رکھا ہے۔پس ثابت ہوا کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسیح موعود کو نازل ہونا چاہئیے۔خود کسر صلیب کی تشریح اور تفصیل کے متعلق ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔اس جگہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ کی یہ ایک علامت بیان کی گئی تھی کہ اس وقت یسوعی مذہب کا زور ہوگا۔چنانچہ یہ زمانہ اس علامت کو پوری طرف ظاہر کر چکا ہے۔وھوالمراد۔144