دینی نصاب — Page 143
وسیع ہو جائے گا اور مختلف ممالک کے لوگ آپس میں مل جل جائیں گے۔یعنی وسائل کی اتنی کثرت ہوگی کہ گذشتہ زمانوں کی طرح ایسا نہیں رہے گا کہ قومیں الگ الگ رہیں بلکہ میل جول کی کثرت سے تمام دنیا گویا ایک ہی ملک ہو جائیگی۔“ اور پھر اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے۔فرماتے ہیں:۔66 ليتُرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا - (صحیح مسلم جلد ۲) یعنی اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی اور اُن پر سفر نہ کیا جائے گا۔اور قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ:۔أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا - یعنی ”آخری زمانہ میں زمین اپنے تمام مخفی بوجھ نکال کر باہر پھینک دیگی اور مادی علوم کی کثرت ہوگی“۔وغیرہ وغیرہ اب دیکھ لو کہ اس زمانہ میں یہ علامت کس صراحت کیساتھ پوری ہوئی ہے۔نئی نئی سواریاں مثلاً ریل ،موٹر ، جہاز، ہوائی جہاز۔پھر محکمہ ڈاک ، تار، بے تار کی برقی اور ٹیلیفون اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو۔اور پھر نہریں اور پھر کثرت اشاعت کتب و رسالہ جات و اخبارات پھر ایجادات مطبع وٹائپ وشارٹ ہینڈ وغیرہ نے کس طرح ساری دُنیا کو ایک کر رکھا ہے اور اشاعت دین کے کام کو کیسا آسان کر دیا ہے؟ اور ریل اور موٹر وغیرہ نے اونٹنیوں وغیرہ کو عملاً بے کا ر کر رکھا ہے اور خود عرب کے ملک میں بھی ریل پہنچ چکی ہے اور قریب ہے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بھی ریل جاری ہو کر اونٹنیوں کو جہاں تک لمبے سفروں کا تعلق ہے بالکل ہی بے کار کر دے جیسا کہ اوراکثر جگہ اس نے کر دیا ہے۔در حقیقت یہ علامت اس زمانہ میں اس صفائی کے ساتھ پوری ہوئی ہے کہ کسی عقلمند کے نزدیک کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔فالحمد اللہ علی ذالک۔اسی 143