دینی نصاب — Page 125
اس تمہیدی نوٹ کے بعد ہم بفضلِ خدایہ ثابت کرتے ہیں کہ مہدی اور مسیح الگ الگ وجود نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں جو دو مختلف حیثیتوں کی وجہ سے اُسے دیئے گئے ہیں۔پہلی بات جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہیں وہ لفظ مہدی کا مفہوم ہے اور نیز یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کے لفظ کو اسم معرفہ کے طور پر نہیں استعمال کیا بلکہ ایک صفتی نام کے طور پر استعمال فرمایا ہے۔مہدی کے معنے ہیں۔’ہدایت یافتہ اور بعض احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو بعض ان لوگوں کے متعلق بھی استعمال فرمایا ہے جو مہدی موعود نہیں ہیں۔مثلاً اپنے خلفاء کی نسبت آپ نے فرمایا کہ الخلفاء الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِينَ۔(ابو داؤد، ترمذی ) یعنی ” میرے خلفاء ہی مہدی ہیں۔لہذا مسیح موعود چونکہ مسلمہ طور پر خلفاء رسول میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے اسلئے وہ سب سے بڑا مہدی ہوا۔اور وہی جوسب سے بڑا مہدی ہے وہی مہدی موعود ہے کیونکہ جب بموجب قول نبوی آپ کے سب خلفاء مہدی ہیں تو لازما مہدی موعود وہی ہو گا جو ان میں سے خاص طور پر موعود ہے۔پس ثابت ہوا کہ گواور لوگ بھی مہدی ہوں مگر ان میں سے جو خاص طور پر موعود ہے وہی مسیح ہے۔پھر حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ :- كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ اَنَا اَوَّلُهَا وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أُخِرُهَا۔(کنز العمال جلد ۷ صفحہ ۲۰۳) یعنی کس طرح ہلاک ہوگی وہ امت جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں عیسی بن مریم ہے۔پھر فرمایا خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلُهَا وَاخِرُهَا أَوَّلُهَا فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ وَآخِرُهَا فِيهِمُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَبَيْنَ ذَلِكَ فَيْجٌ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِلِي وَلَسْتُ مِنْهُمْ - ( كنز العمال جلدے صفحہ ۲۰۲) یعنی اس امت میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اس کے اول اور آخر میں ہیں۔اول والوں میں رسول خدا ہے اور آخر والوں میں عیسی بن مریم ہے اور دونوں کے درمیان کج رولوگ ہیں جو مجھ سے نہیں اور نہ میں اُن سے ہوں۔125