دینی نصاب — Page 116
ابن مریم کے نام میں حکمت : اب رہا ابن مریم کے نام کا سوال۔سو اس کے متعلق اچھی طرح سمجھ لو کہ آئندہ مبعوث ہونے والے ماموروں کے نام جو کسی نبی کے ذریعہ بتائے جاتے ہیں وہ عام طور پر کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں۔اس لئے انہیں ہمیشہ ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر ان کے استعمال میں غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ آنے والے موعود اور اس کے نام کے درمیان کسی گہرے اور باریک تعلق کو ظاہر کریں۔مثلاً بنی اسرائیل کو یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ مسیح کے ظہور سے پہلے حضرت الیاس کا ظہور ہوگا جو حضرت مسیح ناصری سے قریباً ساڑھے آٹھ سو سال پہلے گزر چکے تھے۔جن کی نسبت یہودیوں میں یہ عقیدہ تھا کہ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں۔(۲- سلاطین باب ۲ آیت ۱۱) اس پر یہود نے الیاس کے نزول سے یہ سمجھا کہ وہ الیاس نبی جو گذر چکا وہی بذات خود دوبارہ نازل ہوگا اور اس کے بعد مسیح آئے گا۔اس لئے جب حضرت عیسی نے مسیح ہونے کا دعوی کیا تو یہود نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہماری کتابوں میں تو لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے الیاس نازل ہوگا، لیکن چونکہ ابھی تک الیاس نہیں آیا اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دعویٰ درست نہیں ہو سکتا۔اس کا جواب حضرت عیسی علیہ السلام نے دیا کہ الیاس کے آنے کی جو خبر دی گئی تھی اس سے خود الیاس کا آنا مراد نہ تھا بلکہ وہ ایک ایسے نبی کی خبر تھی کہ جو الیاس کی خُو بو پر اس کا مثیل بن کر آنا تھا اور وہ آچکا اور وہی بیٹی ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔(متی باب ۱۱ آیت ۱۴) لیکن ظاہر پرست یہوداسی بات پر جمے رہے کہ خود الیاس کو نازل ہونا چاہیئے اور اس طرح وہ نجات سے محروم ہو گئے۔( متی باب : ۱۷) اس مثال سے یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ پیشگوئیوں میں جو نام آنے والے مصلحوں کے بتائے جاتے ہیں وہ ہمیشہ ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ وہ بالعموم 116