دینی نصاب

by Other Authors

Page 103 of 377

دینی نصاب — Page 103

اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنیوالوں اور اس رسول کی اطاعت کرنیوالوں کو نبوت ،صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے مقام و مرتبے عطا کئے جائیں گے۔گویا ایک سچا مومن اور مسلمان آپ کی بچی پیروی کے نتیجہ میں صالحیت سے لے کر نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں دوسرے انبیاء کا ذکر ہے وہاں بتلایا گیا ہے کہ اُن کی پیروی سے زیادہ سے زیادہ صدیقیت کا مقام حاصل ہوسکتا ہے۔جیسا کہ فرمایا۔وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِة أُولَبِكَ هُمُ الصَّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِند ربهم ط (سورۃ الحدید رکوع ۲ آیت : ۲۰) اور جو اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہداء کا درجہ پانے والے ہیں۔6 ان دونوں آیات پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبیوں کی اطاعت کے نتیجہ میں انسان صرف صدیق ، شہید اور صالح کا درجہ پاسکتا تھا من آنحضرت کی اطاعت کے نتیجہ میں ان مدارج کے علاوہ نبوت کا مرتبہ بھی مل سکتا ہے۔یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت میں مَعَ الَّذِینَ کے الفاظ ہیں۔یعنی ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جو نبی ،صدیق ، شہید اور صالح ہوں گے اس سے یہ کہاں پتہ لگا کہ وہ ان میں سے ہوں گے۔یہ اعتراض قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔اور عربی زبان اور قرآنی اسلوب بیان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ مع کے معنی سیاق و سباق اور قرینہ کے مطابق بعض اوقات صرف ”میں“ کے ہوتے ہیں ساتھ کے نہیں۔جیسا کہ دُعا سکھائی۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( سورة آل عمران رکوع ۲۰ آیت: ۱۹۴) یعنی مومن یہ دُعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔اس آیت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی نیک آدمی مرنے لگے تو ہم بھی مر جائیں۔بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم نیک لوگوں میں شامل ہوں۔103