دینی نصاب — Page 104
اگر مندرجہ بالا آیت میں ”مع “ کا ترجمہ ”ساتھ“ کیا جائے تو آیت بے معنی ہو جاتی ہے۔کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ خُدا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے انسان نبی تو نہیں ہوسکتا ہاں اُن کے ساتھ ہوگا۔تولا زمانی بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان چاروں درجوں میں سے کوئی درجہ بھی نہیں ملے گا۔صرف ان کے ساتھ ہونے کا شرف حاصل ہوگا۔جن کو یہ مدارج ملیں گے۔اگر انسان صالح یا نیک بھی نہ بن سکا تو پھر کیا فائدہ ہوا۔اس سے تو نعوذ باللہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے انبیاء کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند ہے کیونکہ ان کی اطاعت سے صد یقیت کا در جدل جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ بات درست نہیں۔پس ثابت ہوا کہ مئع کے یہی معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے نبوت کے مقام تک فائز ہوں گے۔دوسری آیت:- اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلبِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ، إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ (سورۃ الحج رکوع ۱۰ آیت:۷۶) بصِيرُه اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی رسول منتخب کرتا ہے اور کرتارہے گا کیونکہ وہ سُنے والا اور دیکھنے والا ہے۔استدلال:- اس آیت میں يَصْطفی مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اور اس کے معنی ہوں گے منتخب کرتا ہے۔اور منتخب کرے گا۔گویا اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر کیا ہے کہ وہ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب فرما تا رہتا ہے اور خُدا کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوتی جیسا کہ فرمایا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا تُو خدا کی سنت میں کبھی تبدیلی نہیں پائے گا۔104