دینی نصاب

by Other Authors

Page 59 of 377

دینی نصاب — Page 59

تیر ا باب بد رسوم خدائے تعالیٰ کے انبیاء ہمیشہ ایسے زمانہ میں آتے ہیں جب سچی توحید دنیا سے مٹ جاتی ہے اور مشرکانہ رسوم مذہب کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ان کا اور ان کے خلفاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ شریعت یعنی سچے دین کو دنیا میں قائم کریں اور جو زائد باتیں یا غلط امور بطور رسم اور بدعت لوگ اپنی طرف سے مذہب میں شامل کر دیتے ہیں ان کو مٹا دیں۔یہی کام اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد ہوا۔آپ حکم اور عدل بن کر تشریف لائے اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔آپ نے شریعت حقہ اسلامیہ کو از سرنو قائم کیا۔تمام بد رسوم کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف جہاد کیا۔اور امت مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔یہی کام حضور کے خلفاء کا رہا اور وہ بھی اپنے اپنے زمانہ میں مروجہ رسوم کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا :- ”ہماری جماعت کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ توحید خالص کو اپنے نفسوں میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی قائم کریں اور شرک کی سب کھڑکیوں کو بند کر دیں۔۔۔۔۔۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر بدعت اور ہر بد رسم شرک کی ایک راہ ہے اور کوئی شخص جو توحید خالص پر قائم ہونا چاہے وہ توحید خالص پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک وہ تمام 59