دینی نصاب

by Other Authors

Page 55 of 377

دینی نصاب — Page 55

آداب خرید وفروخت خرید و فروخت سے قبل وہ چیز جو خریدی جارہی ہے اسے اچھی طرح سے دیکھ لینے کا حکم ہے۔خریدار کو چاہیے کہ اپنی تسلی کر لینے کے بعد چیز کوخریدے۔بغیر دیکھنے بھالنے کے خریدو فروخت منع ہے۔فروخت کرنے والے کو چاہیے کہ اگر اس کی چیز میں کوئی نقص ہو تو وہ خریدار کو پہلے بتادے تا کہ اگر خریدار کی مرضی ہو تو اس کو خریدے۔لیکن اگر فر وخت کرنے والا اس چیز کے نقص کو نہ بتائے تو خریدار کو حق حاصل ہے کہ وہ چیز واپس کر دے اور قیمت واپس لے لے۔خریدار کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو یہ شرط کر لے کہ اگر یہ چیز پسند آئی تو خریدوں گا ورنہ واپس کر دونگا۔فروخت کرنے والوں کو چاہئیے کہ وہ ایسا مال فروخت نہ کریں جونکتا ہو۔اور دھوکہ کے طور پر بھی کوئی مال فروخت نہ کریں مثلاً یہ کہ چیز عمدہ دکھا ئیں مگر ناقص دیں۔مال کی دو قیمتیں مقرر نہ کریں کہ اگر نقد لو تو یہ قیمت ہے اور اگر اُدھار لو تو یہ قیمت ہے۔کیونکہ یہ سود ہے۔یا ایسا کریں کہ ہوشیار آدمی سے کم قیمت لیں اور بچے یا ناواقف سے زیادہ قیمت لے لیں۔ہاں یہ ان کو اختیار ہے کہ کسی ذاتی تعلق والے سے کم قیمت لے لیں۔اگر کسی وقت بائع ( فروخت کنندہ ) اور مشتری (خرید کنندہ) کے درمیان جھگڑا ہو جائے۔یعنی بائع کہے کہ میں نے یہ چیز دس روپیہ میں فروخت کی ہے۔اور مشتری کہے کہ میں نے آٹھ روپیہ میں خریدی ہے۔تو بائع کی بات مانی جائے گی۔مشتری کو اختیار ہے کہ خواہ وہ یہ قیمت قبول کرے یا سودا توڑ دے۔اور چیز نہ لے۔بیع سلم بھی جائز ہے۔یعنی ایک شخص ایک تاجر سے یہ سودا کر لے کہ میں تم سے سارا سال 55