دینی نصاب — Page 54
اللہ علیہ وسلم نے فرما اعطوا الْأَجِيْرَ أَجْرَةَ قَبْلَ أَنْ تَجِفَّ عَرْقُهُ ( رواه ابن ماجه، وصحه الالبانی) ترجمہ: مزدور کو اسکا پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی اس کی اجرت ادا کر دو۔بہر حال مزدور کی اُجرت کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔اور نہ صرف اُجرت کا لحاظ رکھنا ہی ضروری ہے بلکہ اسے گالی دینا اور مارنا وغیرہ بھی منع ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ضرور مسلمان کو ہی اُجرت پر لگایا جائے بلکہ غیر مسلم کو بھی اُجرت پر لگایا جا سکتا ہے مگرحتی الوسع اپنے مسلمان بھائیوں کی ہی امداد کرنی چاہیئے۔خرید وفروخت رزق حاصل کرنے کا دوسرا طریق خرید و فروخت ہے۔خرید وفروخت (تجارت) کرنے میں بہت برکت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تجارت کرنے کے متعلق خاص طور پر تاکید فرمائی ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعویٰ نبوت سے قبل تجارت فرمایا کرتے تھے۔اور آپ کے صحابہ بھی مدینہ منورہ میں تجارت کرتے تھے۔خرید و فروخت بھی اسی طریق پر کرنی چاہیئے جیسے شریعت نے حکم دیا ہے۔جن چیزوں کے خرید کرنے یا فروخت کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔ان چیزوں کی ہرگز خریدوفروخت نہیں کرنی چاہئیے۔اگر کوئی شخص ایسا کرے گا اور خلاف شریعت طریقوں سے مال کمائے گا تو وہ مال ہرگز حلال اور طیب نہیں کہلائے گا۔پس ہر شخص جو خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے۔اس پر فرض ہے کہ وہ شریعت کے احکام کے مطابق اپنا کام کرے۔54