دینی نصاب — Page 53
مال پاک اور حلال اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ خلاف شریعت طریقوں سے نہ کمایا گیا ہو۔اگر پاک مال میں ذرا سا حرام مال بھی مل جائے تو وہ سارے مال کو حرام کر دیتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مال کماتے وقت نہایت ہی احتیاط کی جائے۔اور ذرہ بھر مال بھی خلاف شریعت طریقوں سے نہ کمایا جائے۔زراعت میں ضروری ہے کہ جب کوئی شخص زراعت کرے تو اپنی زمین میں ہی کاشت کرے۔کسی دوسرے کی چپہ بھر زمین بھی ناجائز طور پر اپنی زمین میں شامل نہ کرے اور اپنی ہی کھیتی اور فصل اپنے استعمال میں لائے۔کسی دوسرے کی فصل کو بالکل نقصان نہ پہنچائے۔زمین کا مالک اپنی زمین کو بٹائی (حصہ) پر بھی دے سکتا ہے۔مثلاً حصہ مقرر کر لے کہ جس قدر اُس کی پیداوار ہوگی اس کے اس قدر حصے کئے جائیں گے۔اتنے حصے تمہارے ہوں گے اور اتنے حصے میرے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی زمین کسی کو زراعت کیلئے دیدے کہ میں سال میں تم سے اتنے روپے لے لیا کروں گا۔زمین کے مالک کیلئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ مزارع کو زمین کا کوئی حصہ دیدے کہ اس میں جو پیداوار ہوگی وہ تمہاری اور اپنے لئے کوئی خاص حصہ مقرر کر لے کہ اس میں جو پیداوار ہوگی وہ میری۔کیونکہ یہ ایک قسم کا ظلم - اجاره اُجرت پر لگنا اور لگانا ہر دو جائز ہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ پہلے اُجرت مقرر کر لی جائے۔اور جوا جرت مقرر ہو جائے اس سے کم اجرت دینا ہرگز جائز نہیں۔بلکہ اگر ہو سکے تو بطور احسان کچھ زیادہ ہی دینا چاہیئے۔مزدور کی اُجرت فوراً ادا کر دینی چاہئیے۔کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی 53