دینی نصاب — Page 18
۳- اگر فرض نماز کی چار رکعتیں پڑھنی ہوں تو پہلی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے۔تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے۔اور چوتھی رکعت کے سجدوں سے فارغ ہو کر تشہد کیلئے بیٹھے اور درود اور دعاؤں کے بعد سلام پھیر دے۔۴۔اگر سنتیں یا نفل چار پڑھنے ہوں تو ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی حصہ قرآن کریم کا پڑھے۔۵- امام سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ پڑھنے کیلئے بسم اللہ خواہ دل میں (سرا) پڑھے یا بلند آواز سے ( جہراً) پڑھے دونوں طرح درست ہے۔اسی طرح آمین بھی آہستہ یا بلند آواز سے کہنا درست ہے۔۶۔تشہد میں اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کہتے وقت شہادت کی انگلی اُٹھائے۔انگلی اُٹھانا مستحب (پسندیدہ) ہے۔۷۔رکوع کے وقت کمر سیدھی ہو اور نگاہیں نیچے سجدہ گاہ پر ہوں۔رکوع پورے اطمینان سے کیا جائے۔رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا چاہئیے۔پھر اطمینان سے سجدہ کیا جائے۔سجدہ میں جانے کیلئے گھٹنے زمین پر پہلے رکھے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو۔سجدہ کے وقت پیشانی، ناک ، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجے زمین کو چھورہے ہوں۔کہنیاں زمین سے اونچی ہوں۔باز و بغلوں اور رانوں سے الگ ہوں۔ہاتھوں کی انگلیاں اکٹھی اور قبلہ رُخ ہوں۔اسی طرح پاؤں کی انکھیاں بھی، پاؤں زمین سے اونچے نہ کرے۔۹۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔بعض لوگ ناف پر یا پیٹ پر باندھتے ہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ جواز کی صورتیں ہیں۔۱۰۔نماز میں اگر کچھ بھول جائے یا کسی قسم کی کمی بیشی کا خیال ہو تو یقینی حصہ سے نماز پوری 18