دینی نصاب — Page 260
میں لکھا گیا کہ ایک عالم دین نے ایڈیٹر پیغام صلح اور دوسرے متعلقین کو ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیعت کے متعلق تحریر کیا کہ وہ بزرگانِ سلسلہ مراد خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرھم) کو بدنام کر رہے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کی دو مرتبہ بیعت اطاعت کرنے کے باوجود آپ کو بدنام کرنے اور خلافت کے نظام کو مٹانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اپنے مذموم ارادوں میں نا کام رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا سب سے بڑا یہی کارنامہ ہے کہ آپ نے خلافت کے نظام کو مضبوطی سے قائم کردیا اور خلافت کی ضرورت و اہمیت کو جماعت کے سامنے بار بار پیش کر کے اس عقیدہ کو جماعت میں راسخ کر دیا کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔انسانی منصوبوں سے کوئی شخص خلیفہ نہیں بن سکتا۔خلافت کے الہی نظام کو مٹانے کیلئے منکرین خلافت نے جو فتنہ و فساد برپا کیا اور لوگوں کو ورغلانے اور اپنا ہم خیال بنانے کی جو کاروائیاں کی گئیں آپ نے ان کا تارو پود بکھیر کر رکھ دیا۔منکرین خلافت نے اپنے خیالات کی ترویج کیلئے لاہور سے ایک اخبار جاری کیا جس کا نام پیغام صلح رکھا۔یہ اخبار حضرت خلیفہ اول کے نام بھی ارسال کیا جانے لگا۔آپ نے اس کے مضامین کو پڑھ کر فرمایا۔یہ تو ہمیں پیغام جنگ لگتا ہے اور آپ نے بیزار ہوکر اس اخبار کو وصول کرنے سے انکار کر دیا۔وفات غرض آپ اپنی خلافت کے سارے دور میں جہاں قرآن کریم و احادیث نبوی کے درس و تدریس میں منہمک اور کوشاں رہے وہاں خلافت کے مسئلہ کو بار بار تقریروں اور خطبات میں واضح کیا یہاں تک کہ جماعت کی غالب اکثریت نے اس حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔علالت کے دوران خفیہ ٹریکٹوں کی اشاعت نے آپ کو بہت دُکھ پہنچایا اور آپ کی صحت پر بہت برا اثر ڈالا۔بالآخر آپ نے ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء بروز جمعہ داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا إِلَيهِ رَاجِعُونَ 260