دینی نصاب

by Other Authors

Page 239 of 377

دینی نصاب — Page 239

وقت بہت زور ہے جب تک امن وسکون نہ ہو حکومت کیلئے قصاص کی کارروائی کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے ذی اثر صحابہ فوری بدلہ لینے کے بڑے حامی تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے انہیں بہت سمجھایا کہ خلیفہ وقت کے خلاف کھڑا ہونا مناس نہیں لیکن انہوں نے اس نصیحت کی کوئی قدر نہ کی۔جنگ جمل حضرت عائشہ کو حالات کا پوری طرح علم نہ تھا وہ بھی اس امر کی تائید میں تھیں کہ قاتلین عثمان سے فوری انتقام لیا جائے۔حضرت علی نے بہت کوشش کی کہ باہمی جنگ و جدال کا دروازہ نہ کھلے لیکن تمام کوششیں بریکار گئیں اور فریقین میں خونریز جنگ ہو کر رہی۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر چہ حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ کے لئے میدان میں آئے لیکن جنگ ہونے سے قبل ہی لشکر سے الگ ہو گئے تاہم کسی مخالف کے ہاتھوں مارے گئے۔اور حضرت عائشہ کےلشکر کو شکست ہوگئی تاہم فتح کے بعد حضرت علی نے ان کی حفاظت کا پورا اہتمام کیا اور جب وہ مدینہ جانے لگیں تو خود الوداع کہنے گئے۔چونکہ اس جنگ میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں اس لئے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں ( جمل کے معنی اونٹ کے ہیں )۔حضرت عائشہ کو بعد میں ساری عمر اس امر کا افسوس رہا کہ کیوں انہوں نے حضرت علی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔جنگ صفین جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے امیر معاویہ کو بھی ایک مرتبہ بیعت کر لینے کی تلقین کی لیکن وہ کسی طرح اس امر پر آمادہ نہ ہوئے۔انہوں نے عمرو بن عاص ” والی مصر کو اپنا ہمنوا بنایا اور جنگ کی تیاری کی اور ۸۵ ہزار کا لشکر لیکر حضرت علی کے خلاف صف آراء ہو گئے۔حضرت علی کے ساتھ بھی ۸۰ ہزار کا لشکر تھا۔سات دن تک جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ساتویں دن 239