دینی نصاب — Page 225
جرار لشکر مدینہ پر حملہ آور ہوا۔آنحضور نے شہر کی حفاظت کے لئے ارد گر دخندق کھدوائی۔قریباً ایک ماہ تک مدینہ کا محاصرہ رہا۔پھر خدا کی نصرت اس رنگ میں آئی کہ ایک رات تیز آندھی آئی اور جو احزاب مدینہ کے گرد خیمے ڈالے پڑے تھے ان کی روشنیاں بچھ گئیں۔اور دلوں میں خوف طاری ہو گیا۔پھر سارے گروہ (احزاب) ایک ایک کر کے بھاگ گئے اور اپنے ارادوں میں ناکام رہے۔یہ جنگ احزاب اور جنگ خندق کہلاتی ہے۔صلح حدیبیه : سن ۶ ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رویاء کی بناء پر خانہ کعبہ کی زیارت (عمرہ) کا ارادہ کیا اور مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ چودہ سوصحابہ کی ایک جماعت تھی۔حدیبیہ کے مقام پر قریش نے آپ کا راستہ روک لیا۔بالآخر مسلمانوں اور قریش میں ایک معاہدہ طے پایا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس معاہدہ کی بناء پر حضور مدینہ واپس آگئے۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دب کر صلح کر لی ہے لیکن درحقیقت اس کے نتیجہ میں فتح مکہ کا راستہ صاف ہو گیا اور سیاسی طور پر مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کر لیا گیا۔بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط : جب صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں دس سال تک پرامن رہنے کا کفار سے معاہدہ ہو گیا تو حضور نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو سلاطین رہتے تھے ان کو خطوط کے ذریعہ پیغام حق پہنچایا۔چنانچہ قیصر روم، کسری پرویز شاه ایران مقوقس سلطان مصر، ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اسلام کی دعوت دی گئی۔اسی طرح بحرین ، بصرہ اور یمامہ کے حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے گئے۔فتح مکه : صلح حدیبیہ کی رُو سے دس سال تک جنگ بند رکھنے کا معاہدہ ہو چکا تھا۔لیکن سن ۸ ہجری 225