دینی نصاب — Page 226
میں خود مکہ والوں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔اس بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں (صحابہ) کو ساتھ لیکر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔قریش کو اس لشکر کے آنے کا اس وقت علم ہوا جب وہ مکہ کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ابوسفیان نے جو مکہ کا سردار تھا اتنابڑ الشکر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے اور اسلام کا رُعب اس کے دل میں بیٹھ گیا۔حضرت عباس کے توجہ دلانے پر اس نے اسلام قبول کر لیا۔اسلامی لشکر فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ( آج تم پر کوئی الزام نہیں) کہ کر عام معافی کا اعلان فرما دیا اور عفو و درگذر کی ایسی مثال قائم کر دی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔فتح مکہ کے بعد اسلام بڑی تیزی سے سارے عرب میں پھیل گیا۔تاہم فتح مکہ کے بعد بھی آپ کو بعض غزوات پیش آئے جن میں غزوہ حنین اور غزوہ تبوک زیادہ معروف ہیں۔وصال : ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ یعنی ہجرت کے دسویں سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا جو حجتہ الوداع کہلاتا ہے۔آپ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا اور بطور وصیت آخری نصائح فرما ئیں۔پھر آپ حج سے فارغ ہو کر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ آ کر مرض الموت میں مبتلا ہو گئے اور ۲۶ رمئی ۳۲ ء مطابق یکم ربیع الاول الاه روز پیر تریسٹھ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔لے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ - له تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۵۵ حاشیہ۔اخبار جنگ کراچی ۲۸ ستمبر ۱۹۸۵ء صفحہ ۷۔ڈاکٹر محمد شہید اللہ صاحب پروفیسر راجشاہی بنگلہ دیش کی تحقیق جدید کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم وصال یکم ربیع الاول سن ۱۱ھ مطابق ۲۶ رمئی ۳۲ قرار پاتا ہے۔محمد مختار باشاہ ماہر فلکیات کی کتاب "التوفیقات الالہامیہ صفحہ ۶ کی رو سے یکم ربیع الاول سن ااھ کی 226