دینی نصاب — Page 214
ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے ( تذکره صفحه ۳۱۴ طبع چہارم) والی ہے۔اس پیشگوئی کے مد نظر آپ نے اشتہار کے ذریعہ لوگوں کو مشورہ دیا کہ کھلے مقامات پر رہائش اختیار کریں۔لوگوں نے اس کا بڑا مذاق اڑایا کیونکہ ملک میں طاعون کا نشان تک نہ تھا۔پیسہ اخبار لاہور نے لکھا:۔”مرزا اسی طرح لوگوں کو ڈرایا کرتا ہے۔دیکھ لینا خود اسی کو طاعون ہوگی۔“ پیسہ اخبار لاہور فروری ۱۸۹۸ء) لیکن پیشگوئی کے مطابق چند ماہ بعد طاعون نمودار ہوگئی مگر حملہ کمزور تھا اس لئے لوگ تمسخر سے باز نہ آئے تو حضور نے ازراہ ہمدردی کار مارچ ۱۹۰۱ میحون کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں تحریر کیا :- ”سواے عزیزو! اسی غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک پاک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آگئی ہے خُدا اس کو نابود کرے۔اسے غافلو! یہ نسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے۔یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے حکم سے دُور ہوتی ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۴۰۱ اشتہار ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء) جب لوگوں نے اس تنبیہہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو خدائے ذوالجلال کا غضب بھڑکا اور ۱۹۰۲ ء میں طاعون نے اس قدر زور پکڑا کہ لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اور گاؤں کے گاؤں اجڑ گئے۔اس قدر موتا موتی ہوئی کہ لاشوں کے سنبھالنے والا کوئی نہ ملتا۔یہ حالات دیکھ کر آپ نے پھر ایک رسالہ ” دافع البلاء و معیار اهل الاصطفاء تحریر فرمایا۔اور لوگوں کو تو جہ دلائی کہ اس مصیبت کا حقیقی علاج یہی ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف توجہ کی جائے اور اس کے فرستادہ کو قبول کیا جائے۔چنانچہ تحریر فرمایا:- 214