دینی نصاب

by Other Authors

Page 192 of 377

دینی نصاب — Page 192

ہے جو آپ نے واقعہ صلیب اور مسیح ناصری کی قبر کے متعلق فرمائی ہے آپ نے انجیل اور تاریخ سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ:۔اوّل مسیح ناصری جس کی صلیبی موت پر کفارے کی عمارت کھڑی کی گئی ہے صلیب پر چڑھانے تو بے شک گئے مگر وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ ششی کی حالت میں زندہ ہی صلیب سے اُتار لئے گئے اور آپ نے یہ بات ایسے روشن دلائل کے ساتھ ثابت کر دی کہ شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہی۔دوسرے آپ نے بین دلائل کے ساتھ ثابت کردیا کہ مسیح ناصری جنہیں خدا بنایا گیا ہے فوت ہو چکے ہیں۔تیسرے آپ نے زبر دست تاریخی دلائل سے یہ بات ثابت کر دی کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح اپنے ملک سے ہجرت کر کے کشمیر کے طرف آگئے تھے اور پھر آپ نے براہین قاطعہ سے سری نگر محلہ خانیار میں مسیح کی قبر بھی ثابت کر دی۔اب دیکھو کہ یہ تین زبر دست تحقیقیں جو آپ نے فرمائی ہیں۔مسیحی مذہب کے متعلق کیسا عظیم الشان اثر رکھتی ہیں اور کیا ان کے بعد الوہیت مسیح اور کفارہ کا کچھ باقی رہ جاتا ہے؟ حضرت مسیح اگر صلیب پر نہیں مرے اور صلیب سے زندہ اُتر آئے تو گو یا کفارہ خاک میں مل گیا۔پھر اگر مسیح اپنی زندگی کے دن گزار کر دوسرے انسانوں کی طرح وفات پاگئے اور زیر خاک مدفون ہوئے اور ان کی قبر بھی مل گئی تو صرف انہیں پر نہیں بلکہ ان کی خدائی پر بھی موت آگئی اور گویا وہ خود دفن نہیں ہوئے بلکہ اُن کی خدائی بھی دفن ہوگئی اور مسیحیت کا سارا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا ( مسیح ہندوستان میں اور راز حقیقت ) پھر حضرت مرزا صاحب نے روحانی مقابلہ کیلئے بھی عیسائیوں کو اپنے سامنے بلایا اور بار بار چیلنج دیا کہ تم ان لوگوں میں سے ہونے کا دعوی کرتے ہو جو ایک رائی کے دانہ کے برابرایمان 192