دینی نصاب — Page 193
رکھنے پر بھی وہ کچھ دکھا سکتے ہیں جو تمہارے خیال میں مسیح نے دکھایا تو اب میرے مقابل پر نکلو اور اپنے ایمان کا ثبوت دو۔میں مسیح کی خدائی کا منکر ہوں۔ہاں بیشک وہ خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔مگر مجھے خدا نے اُس سے برتر مرتبہ عطا کیا ہے اور میں کفارے کے خونی عقیدہ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔اب اگر تم میں سے کسی کو ہمت ہے کہ روحانی کمالات میں میرا مقابلہ کر سکے تو وہ سامنے آئے اور دُعا اور افاضہ روحانی میں میرے ساتھ مقابلہ کر لے اور پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔آپ نے لکھا کہ قرعہ اندازی کے ساتھ کچھ خطرناک مریض مجھے دیدو اور کچھ تم لے لو۔میں اپنے مریضوں کیلئے دعا کروں گا اور اپنے خدا سے ان کی شفایابی چاہوں گا اور تم اپنے مریضوں کے لئے اپنے مسیح سے شفا کے طالب ہونا اور اپنے علوم ظاہری کی مدد سے ان کا علاج بھی کرنا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کس کا خدا غالب ہے اور کون فتح پاتا ہے اور کون ذلیل ہوتا ہے۔آپ نے اس چیلنج کو بار بار دہرایا۔اور اس کے متعلق کثرت کے ساتھ اشتہارات دیئے اور پادریوں کو غیرت دلا دلا کر اُبھارا اور ان کے بڑے بڑے بشپوں کو بھی دعوتی مراسلے بھیجے مگر کسی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔( تبلیغ رسالت ، ریویو آف ریلینجز ، حقیقۃ الوحی ) کیا اس سے بڑھ کر کوئی روحانی موت ہو سکتی ہے جو اس فرقہ کو نصیب ہوئی ؟ پھر آپ نے اس عظیم الشان مباحثہ کے بعد جو ۱۸۹۳ ء میں امرتسر میں عیسائیوں کے ساتھ ہوا تھا اور جو جنگ مقدس کے نام سے چھپ چکا ہے عیسائیوں کے مناظر ڈپٹی عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ چونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دقبال کہا ہے اور مجھ پر اور اسلام پر جنسی اُڑائی ہے اور وہ ایک سراسر باطل عقیدہ کا حامی ہے اس لئے اگر اُس نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو وہ پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ کے اندر گرا یا جاوے گا۔( جنگ مقدس کا آخری مضمون ) اس پیشگوئی کا ایسا خوف آتھم کے دل پر طاری ہوا کہ وہیں اُسی مجلس میں اُس نے اپنی زبان منہ سے باہر نکال کر اور کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ میں نے تو آنحضرت صلی 193