دینی نصاب — Page 181
رکھا اور اس کو امت کیلئے ایک رحمت قرار دیا اور بعض میں بدلائل صحیح صحیح راہ بتادی۔یہ بعض ان اختلافات کی مختصر فہرست ہے جو مسلمانوں میں رونما ہو چکے تھے اور جن کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے حکم ہو کر فیصلہ کیا۔اگر اختلافات امت اور ان پر حضرت مرزا صاحب کا محاکمہ پورے طور پر بیان کیا جاوے تو ایک ضخیم کتاب ہو جاوے اس لئے اس جگہ صرف چند موٹے موٹے اختلافات مثال کے طور پر مختصر بیان کئے گئے ہیں۔(ان کیلئے دیکھیں کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔حقیقۃ الوحی ، براہین احمدیہ، نزول اسیح ، انوار الاسلام، انجام آتھم ، لیکچر لاہور ، چشمہ معرفت ، پیغام صلح، آئینہ کمالات اسلام ، توضیح مرام ، برکات الدعا، ایک غلطی کا ازالہ ، اسلامی اصول کی فلاسفی ، الحق لدھیانہ، کشتی نوح ، وغیرہ) اس جگہ اگر کوئی شخص یہ شبہ کرے کہ اختلافات کے متعلق تو تمام علماء اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہی آئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اس معاملہ میں کیا زیادت کی ؟ تو یہ ایک باطل شبہ ہوگا۔کیونکہ رائے کا اظہار تو ایک بچہ بھی کر سکتا ہے مگر حضرت مرزا صاحب نے جس رنگ میں اختلافات امت کا فیصلہ کیا ہے وہ اپنے اندر بعض امتیازی خصوصیات رکھتا ہے جن سے آپ کے حکم ہونے پر زبردست روشنی پڑتی ہے اور وہ خصوصیات یہ ہیں :۔۱ - آپ نے کسی مسئلہ میں کسی پارٹی کا جانب دار ہو کر رائے نہیں دی بلکہ ہمیشہ ایک ثالث حکم کے طور پر رائے دی ہے۔اسلئے آپ کے فیصلہ جات عصبیت کے زہریلے اثر سے بالکل پاک ہیں اور یہ ایک بڑی بھاری خصوصیت ہے۔جو شخص آپ کے فیصلہ جات کو دیکھے گا وہ یہ بات محسوس کرنے پر مجبور ہوگا کہ آپ کا ہر فیصلہ ایک منصفانہ اور غیر جانب دارانہ رنگ رکھتا ہے۔۲۔آپ نے صرف رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ عقلی اور نقلی دونوں پہلوؤں سے دلائل کا ایک سورج چڑھا دیا ہے اور متلاشیان حق کے لئے کسی اختلاف کی گنجائش نہیں چھوڑی۔جس بات پر بھی آپ نے قلم اُٹھایا ہے اس کا ہمیشہ کیلئے ایک ایسا فیصلہ کر دیا ہے جو ایک پہاڑ کی طرح اپنی 181