دینی نصاب

by Other Authors

Page 172 of 377

دینی نصاب — Page 172

موجود ہے صلیب قائم ہے اور محض اس کی لکڑی کو توڑ کر خوش ہونا ایک طفلانہ فعل ہے جو سوائے اس کے شماتت اعداء کا موجب ہو کوئی فائدہ نہیں بخش سکتا۔صلیب صرف اسی صورت میں ٹوٹ سکتی ہے کہ مسیحی لوگوں کے دلوں کو فتح کر کے صلیبی مذہب کا زور توڑ دیا جاوے اور براہین قویہ سے اس کا بطلان ثابت کر دیا جائے اس صورت میں بیشک صلیب کی ظاہری لکڑی بھی ٹوٹ جاویگی کیونکہ جب دنیا صلیبی عقائد سے بیزار ہوگی تو لازماً صلیب خود بخود تو ڑ کر پھینک دی جائے گی۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ خیال کرنا کہ کسی زمانہ میں عیسائی مذہب دنیا سے بالکل میٹ جائے گا ایک غلط خیال ہے کیونکہ قرآن شریف کی نص صریح وَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (سورۃ مائده رکوع ۹) یعنی ہم نے عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان قیامت تک دشمنی بھڑکا رکھی ہے) سے ثابت ہے کہ عیسائی مذہب قیامت تک رہے گا۔پس کسر صلیب کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ صلیبی مذہب بالکل ہی مٹ جائے گا بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اس کا زور ٹوٹ جاوے گا اور اس کا غلبہ جاتا رہے گا اور بجائے اس کے کہ وہ دنیا کے غالب مذہبوں میں شمار ہو وہ کمزور اور مغلوب مذہبوں میں شمار ہونے لگے گا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ قتل دجال سے کیا مراد ہے؟ سو اس کے متعلق بھی جب کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دجال کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ مسیحی اقوام اور اس گروہ کے پادریوں کا نام ہے۔یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ قتلِ دجال سے ان لوگوں کی مجموعی ہلاکت مراد ہے بلکہ قتلِ دجال سے یقیناً یہی مراد ہے کہ مسیحی اقوام اور ان کے باطنی مذہبی خیالات اور ان کی مادیت اور ان کے جھوٹے فلسفہ کا غلبہ خاک میں ملا دیا جاوے گا۔اور اس جگہ ایک خاص نکتہ یادرکھنے کے قابل یہ ہے کہ دجال سے محض مسیحیت مراد نہیں کیونکہ یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھی اور آپ کے ساتھ اسکا مقابلہ بھی ہوا اور اسے شکست بھی ہوئی۔پس اگر 172