دینی نصاب

by Other Authors

Page 122 of 377

دینی نصاب — Page 122

متعلق تھیں۔علاوہ ازیں یہ بھی بالکل سچ ہے اور ہمارا مشاہدہ اس پر گواہ ہے کہ ہر ایک قوم اور فرقہ کو یہ خیال ہوتا ہے کہ تمام خیر اپنی ہی طرف منسوب کر لے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی بیان فرمائی کہ میری اُمت میں سے ایک مہدی پیدا ہوگا تو بعد میں سب قبیلوں اور فرقوں کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ موعود مہدی ہم میں سے ہی پیدا ہو اور پھر یہ کہ سب لوگ متقی اور خدا ترس نہیں ہوا کرتے بعض نے ایسی حدیثیں گھڑ لیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ مہدی انہی کی قوم سے ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مہدی کے متعلق احادیث میں اس قدر گڑ بڑ واقع ہوئی ہے لیکن وہ احادیث جو مہدی کو کسی خاص قوم سے نہیں بتا تیں بلکہ صرف یہ بتاتی ہیں کہ وہ امت محمد یہ میں سے ایک فرد ہے وہ ضرور اس قابل ہیں کہ انہیں قبول کیا جاوے کیونکہ انہیں وضعی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ مہدی کے متعلق کسی کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یہ حدیث بنا تا کہ مہدی امت محمدیہ سے ایک فرد ہو گا۔ہاں بے شک جو احادیث مہدی کو کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں اُن کے متعلق یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں وضع کر لی گئی ہیں۔پس اس اختلاف کے پیش نظر ہمارا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ ہم مہدی کوکسی خاص قوم سے نہ قراردیں بلکہ منجملہ صرف اس بات پر ایمان رکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مہدی کی پیشگوئی فرمائی ہے جو آپ کی امت میں سے آخری زمانہ میں ہوگا۔اسی میں ہماری خیر ہے اور یہی احتیاط کا رستہ ہے کیونکہ اگر ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ مہدی حضرت فاطمہ کی اولاد سے ظاہر ہوگا اور آخر کار وہ بنی عباس سے ظاہر ہو جائے تو ہمارا یہ اعتقاد ہمارے راستہ میں بڑی روک ہو جائے گا اور ہم مہدی پر ایمان لانے سے محروم ہو جائیں گے۔اسی طرح اگر ہم یہ ایمان رکھیں کہ مہدی بنی عباس سے ہوگا لیکن وہ حضرت فاطمہ کی اولاد سے پیدا ہو جائے یا حضرت عمر کی نسل سے ظاہر ہو جاوے تو ہم اس پر ایمان لانے سے محروم ہوجائینگے۔پس اور نہیں تو کم از کم اپنا ایمان بچانے کیلئے ہی ہمیں چاہیے کہ مہدی کو کسی خاص قوم میں سے نہ ٹھہرائیں بلکہ صرف یہ ایمان رکھیں کہ مہدی امت محمدیہ میں سے ظاہر ہوگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے 122