دینی نصاب — Page 121
اولاد سے ہوگا۔یعنی اگر ماں حسنی ہوگی تو باپ حسینی ہوگا یا اگر باپ حسنی ہوگا تو ماں حسینی ہوگی۔پھر ایک اور گروہ ہے جو کہتا ہے کہ مہدی حضرت فاطمہ کی اولاد سے نہیں ہوگا بلکہ حضرت عباس کی اولاد سے ہوگا اور بعض کہتے ہیں کہ مہدی حضرت عمر کی اولاد میں سے ہوگا۔پھر بعض احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ مہدی کیلئے کسی خاص قوم کی شرط نہیں بلکہ اس کے لئے صرف یہ شرط ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہوگا۔اس کے علاوہ مہدی اور اس کے باپ کے نام کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض احادیث اس کا نام محمد بتاتی ہیں اور بعض احمد اور بعض عیسی۔باپ کا نام سنیوں کے نزدیک عبداللہ ہو گا مگر شیعہ کہتے ہیں کہ حسن ہوگا۔اسی طرح مہدی کے ظاہر ہونے کی جگہ کے متعلق بھی اختلاف ہے پھر اسی طرح اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ مہدی کتنے سال دنیا میں کام کریگا۔غرض مہدی کے متعلق قریباً ہر ایک بات میں اختلاف ہے اور پھر لطف یہ کہ مختلف گروہ اپنے دعوے کی تائید میں احادیث ہی پیش کرتے ہیں۔( دیکھو مج الکرامہ مصنفہ نواب صدیق حسن خان ) پس ایسی حالت میں مہدی کے متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں۔ان تمام کو صحیح نہیں مانا جاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم نے اپنے بیچین میں مہدی کے متعلق کوئی باب نہیں باندھا۔کیونکہ انہوں نے ان احادیث میں سے کسی کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھا۔اسی طرح بعض بعد میں آنے والے علماء نے بھی مہدی کے متعلق جملہ احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور صاف لکھا ہے کہ مہدی کے متعلق جتنی روایات ہیں اُن میں سے کوئی روایت بھی جرح قدح سے خالی نہیں۔(دیکھو حج الکرامہ) اب طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ سو جہاں تک ہم نے سوچا ہے اس کی کچھ وجہ تو یہ ہے کہ گو ایک مہدی خاص طور پر موعود ہے مگر دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی رنگ میں کئی مہدیوں کی خبر دی تھی جنہوں نے مختلف وقتوں میں مختلف حالات کے ماتحت ظاہر ہونا تھا اسلئے ان روایات میں اختلاف کا ہونا ضروری تھا صرف غلطی یہ ہوئی کہ عوام الناس ان روایات کو ایک ہی شخص کے متعلق سمجھنے لگ گئے۔حالانکہ وہ مختلف لوگوں کے 121