دینی نصاب — Page 105
تیسری آیت: يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ايَتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( سورۃ الاعراف رکوع ۴ ، آیت : ۳۶) اے آدم کے بیٹو! جب بھی تمہارے پاس تم میں سے رسول بنا کر بھیجے جائیں اور وہ تمہارے سامنے میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اصلاح کریں گے ان کو ( آئندہ کیلئے ) کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور نہ وہ ماضی کی کسی بات پر غمگین ہوں گے۔استدلال اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جب تک بنی آدم اس دُنیا میں موجود ہیں۔ان میں رسول آتے رہیں گے اور انسانوں کا فرض ہے کہ ان پر ایمان لائیں۔اس جگہ ساری نسلِ انسانی کو عمومی رنگ میں خطاب کیا گیا ہے۔لیکن درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔جیسا کہ اس سے پہلی آیت کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورۃ الاعراف: ۳۲) اے آدم کے بیٹو! ہر مسجد کے قریب زینت (کے سامان) اختیار کر لیا کرو۔اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ وہ ( اللہ ) اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس جگہ مسجد میں زینت اختیار کرنے کا حکم امت محمدیہ کو ہے۔لیکن خطاب بنی آدم کہہ کر کیا گیا ہے۔چوتھی آیت: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 105