دینی نصاب — Page 99
وَازْوَاجُةً أُمَّهُتُهُمْ۔یعنی نبی مومنوں سے ان کی اپنی جانوں کی نسبت بھی زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔نبی کی بیویوں کو ماں قرار دینے سے کوئی شخص یہ استدلال کر سکتا ہے کہ نبی اور مؤمنین کا رشتہ باپ بیٹے کا ہوا۔ایسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زید کی مطلقہ (حضرت زینب) سے نکاح کرنا اپنی بہو سے نکاح کرنے کے مترادف ہے۔اس اعتراض کو دُور کرنے کے لئے فرمایا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ یعنی (جسمانی لحاظ سے ) نہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (اور نہ ہونگے ) لہذا زید کے طلاق دینے کے بعد حضرت زینب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں۔آیت خاتم النبیین کے پہلے ٹکڑے سے بے شک بہو سے نکاح کرنے کا اعتراض دُور ہو گیا۔لیکن جسمانی ابوت کے انکار سے دو اور شبہات پیدا ہو سکتے تھے۔اوّل یہ کہ بوجہ نبی ہونے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنوں کا باپ قرار دیا گیا تھا۔لیکن جب یہ کہا گیا کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر آپ کی نبوت اور رسالت بھی جاری ہے یا نہیں؟ دوم یہ کہ آپ کی نرینہ اولاد نہ ہونے کے باعث دشمن آپ کو ابتر کہتا تھا۔اب اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں تو کیا واقعی ( نعوذ باللہ ) آپ ابتر ٹھہرے؟ ان ہر دو اعتراضات کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلكِن رَّسُولَ اللهِ۔جسمانی ابوت کی نفی سے یہ نہ سمجھنا کہ آپ روحانی لحاظ سے باپ نہیں رہے۔اللہ کا رسول ہونے کے لحاظ سے آپ مومنین کے روحانی باپ بدستور ہیں جس طرح ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔نہ صرف اس قدر بلکہ آپ کا مقام اور مرتبہ دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں بہت بلند و بالا ہے اور آپ خاتم النبیین ہیں۔یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔آپ کی تصدیق اور آپ کی تعلیم کی شہادت کے بغیر کوئی شخص نبوت یا ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔اس آیت خاتم النبین میں خائم ( تاء کی زبر کے ساتھ ) کے معنی ختم کر نیوالا نہیں 99