دینی نصاب

by Other Authors

Page 100 of 377

دینی نصاب — Page 100

ہو سکتے۔اگر یہاں خاتم ( تاء کی زیر کے ساتھ ) ہوتا تو ختم کرنے والا کے معنی ہو سکتے تھے لیکن یہاں ت پر زبر ہے۔جب خاتم ( تاء کی زبر کے ساتھ ) کسی صیغے کے ساتھ استعمال ہو تو اس کے معنی ہمیشہ افضل“ کے ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں خَاتَمُ الْأَوْلَيَاء خَاتَمُ الْمُحَدِّثِينَ خَاتَمُ الشُّعَرَاء - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے لئے خَاتَمُ الْأَوْلِيَاء کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔( تفسیر صافی زیر آیت خاتم النبیین ) تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی کے بعد کوئی ولی نہیں ہوسکتا۔پس محاورہ عرب کے مطابق خاتم النبیین کے ایک معنی یہ ہوئے کہ تمام انبیاء سے افضل یا ایسا وجود جس پر کمالات نبوت ختم ہو گئے اور وہ اپنے کمال میں بے مثال ٹھہرا۔غرض اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے شک جسمانی لحاظ سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن روحانی لحاظ سے بحیثیت رسول آپ سب مومنوں کے باپ ہیں۔نہ صرف مومنوں کے باپ ہیں بلکہ روحانی لحاظ سے تمام انبیاء کے بھی باپ ہیں۔آپ کا محمد ( یعنی قابل تعریف وجود ) ہونا اس بات کا محتاج نہیں کہ آپ کی جسمانی اولا دہو بلکہ آپ محمد مہیں رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے۔اور خاتم النبیین ہونے کے لحاظ سے۔واضح رہے کہ رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے ہر نبی امت کا باپ ہوتا ہے۔جو چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ آپ کا خاتم ہونا ہے یعنی آپ تمام انبیاء سے بلحاظ مقام و مرتبہ افضل و اعلیٰ ہیں دوسرے آپ صلی یا اسلام کی قوت قدسیہ اور روحانی توجہ نبی تراش ہے۔یعنی آپ کی تعلیم پر عمل کرنے اور آپ کی کامل پیروی سے انسان نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور یہ خوبی آپ سے قبل کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔خاتم النبیین کے اسی مفہوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں بیان فرماتے ہیں:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال 100