دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 87

۸۰ منتر ہیں) کھل یعنی براہمن بھاگ یجروید میں (یہ بھی کئی باب ہیں آرنیک اور سہانا منی سوکت سام وید میں )( یہ دو باب۶۵ منتر ہیں) اور گنتاپ سُوکت اتھرووید میں ملے ہوئے ہیں ( یہ اکھٹے دس سُوکت یعنی باب ہیں جن میں ۱۵۰ منتر ہیں) اور ان کو سبھی جانتے ہیں اور ان سب کے متعلق مفصل ثبوت بھی موجود ہیں۔اِن کے علاوہ کچھ مقامات یجروید اور اتھرووید میں اور بھی ہیں جن کا علم ان فقروں اور منتروں کے پڑھنے سے ہو جاتا ہے کہ وہ ملاوٹی ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شاکھائوں ( وید کے مختلف نسخوں) کی گڑبڑ کا سب کو علم ہے…اور شدھ ویدک شاکھائیں موجود ہیں اِس طرح ملاوٹی حصہ کا بھی سب کو علم ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ واجنی ٔ (یجروید کے مروّج نسخہ) کے منتروں کی تعدا د ۱۹۰۰ ہے جن میں شکری کے منتر ملے ہوئے ہیں۔کیونکہ لکھا ہے …یعنی سَوکم دوہزار منتر واجنی ٔ کے ہیں اور انہی میں شکری کے بھی شامل ہیں۔جب یہ واجنی ٔ سنہتا ہے تب اِس میں منتر واجنی ٔ کے ہونے چاہئیں شکری کے نہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیںکہ موجودہ واجنی ٔسنہتا کے منتروں کی تعداد ۱۹۷۵ء ہے۔اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ شکری کے منتر ۱۹۰۰ میں ہی گھسے ہیں اور باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں‘‘۔ظاہر ہے کہ یہ بیان ویدوں کو تحریف سے بَری نہیں کرتا بلکہ انہیں تحریف کا اقرار کراتا ہے۔اِن حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ ویدوں کے پُرانے اور جدید علماء سب اِس بات پر متفق ہیں کہ ویدوں میں دوسرے لوگوں کے منتر بھی شامل ہو گئے ہیں۔یہ کہنا کہ براہمنوں نے دریافت کر لیا تھا کہ فلاں منتر بناوٹی ہے اور فلاں اصلی ، یہ ایک بے معنی چیز ہے۔اگر وید کے علماء کو یقین ہو گیا ہے کہ فلاںفلاں منتر بناوٹی ہے تو اُن کو نکال کیوں نہیں دیا۔ان کا ویدوں کے اندر رکھنا بتاتا ہے کہ ویدوں کے علماء کو یقین نہ تھا۔چنانچہ آریہ سماج کے مصنف نے آخر میں یہی لکھ دیا ہے کہ یجروید کے ۱۹۰۰ منتر اصلی ہیں باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں۔اور ان ۱۹۰۰ کے متعلق بھی لکھ دیا ہے کہ ان میں بھی کچھ شکری کے منتر ہیں’’ باقی‘‘ اور’’کچھ‘‘ کے الفاظ بتاتے ہیںکہ حقیقت کسی کو بھی معلوم نہیں۔ساری بنیادو ہم و قیاس پر رکھی جاتی ہے۔مگر